يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ , وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ مَاءٍ بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ أَفْطَرَ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ سفر پر روانہ ہوئے، اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب سیدنا ابورہم کلثوم بن حصین رضی اللہ عنہ کو بنا دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس رمضان کو نکلے تھے، اس لئے خود بھی روزے سے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی روزے سے تھے، جب کدید نامی جگہ پر - جو عسفان اور امج کے درمیان پانی کی ایک جگہ ہے - پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا، پھر روانہ ہو گئے یہاں تک کہ مر الظہران پر پہنچ کر پڑاؤ کیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2392]
الحكم: إسناده حسن