بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 61 از 86
حدیث نمبر: 3038 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَجَّاجُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ بَعْدَ مَا زَالَتْ الشَّمْسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زوال آفتاب کے بعد جمرات کی رمی کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3038]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 3039 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3040 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ، خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَهْدَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، قَالَ: فَدَعَا بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ، وَتَرَكَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ، فَلَوْ كُنَّ حَرَامًا، مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا، اور نہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کھانے کی اجازت دیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3040]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5389
حدیث نمبر: 3041 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ فُلَانٌ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ، وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا، قَالَ: وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنَ أَخِي، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ، وَبَصَرَهُ، وَلِسَانَهُ، غُفِرَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے فلاں (فضل) سوار تھا، وہ نوجوان، عورتوں کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کا چہرہ پیچھے کی طرف کئی مرتبہ پھیرا، لیکن وہ پھر بھی کن اکھیوں سے انہیں دیکھتا رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بھتیجے! آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3041]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 3042 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ" فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ. وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ سورة القمر آية 45.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن اپنے خیمے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: الہی! اپنا وعدہ پورا فرما، الہی! اگر (آج یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہو گئے تو) زمین میں پھر کبھی بھی آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی۔ یہ دیکھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے رب سے بہت دعا کر لی، وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: «‏‏‏‏ ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ [القمر: 45] » عنقریب اس جمعیت کو شکست ہو جائے گی اور یہ لوگ پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3042]
حکم دارالسلام
إسناه صحيح، خ: 4875
الحكم: إسناه صحيح، خ: 4875
حدیث نمبر: 3043 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّحِمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور وہ میرے لئے حلال نہیں ہے، کیونکہ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3043]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
حدیث نمبر: 3044 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، دَاوُدُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَاءَ أَبُو جَهْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَنَهَاهُ، فَتَهَدَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتُهَدِّدُنِي؟! أَمَا وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَكْثَرُ أَهْلِ الْوَادِي نَادِيًا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى سورة العلق آية 9 - 13"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ دَعَا نَادِيَهُ، لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرا - جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے - اور کہنے لگا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا: محمد! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی؟ اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے: « ﴿أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى o عَبْدًا إِذَا صَلَّى o أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى o أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى o أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى﴾ [العلق: 9-13] » کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے، ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے، کیا تم نے دیکھا اگر وہ ہدایت پر ہو، یا اس نے پرہیزگاری کا حکم دیا ہو، کیا تم نے دیکھا اگر اس (منع کرنے والے) نے جھٹلایا اور منہ موڑا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے زبانیہ پکڑ لیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3044]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3045 مسند احمد
عَفَّانُ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَرَفَعَهُ، قَالَ:" مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا حِدَّةً وَشِدَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یا حدت کا اضافہ ہی کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3045]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، ورواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، ورواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 3046 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3046]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قد سلف الكلام عليه برقم : 2795
الحكم: إسناده ضعيف، قد سلف الكلام عليه برقم : 2795
حدیث نمبر: 3047 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک مردار بکری پر ہوا جو آپ کے اہل خانہ نے پھینک دی تھی، تو فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اللہ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت اس بکری سے بھی کم ہے جو اس کے مالکوں کے نزدیک اس کی اہمیت ہو سکتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3047]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، محمد بن مصعب مختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، محمد بن مصعب مختلف فيه
حدیث نمبر: 3048 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ، تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْضِ عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، اب کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3048]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 2761، م: 1638
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 2761، م: 1638
حدیث نمبر: 3049 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، حُجِّي عَنْ أَبِيكِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہوجائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اپنے والد کی طرف سے تم حج کر سکتی ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3049]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 4399
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 4399
حدیث نمبر: 3050 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ، وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ دَسَمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3050]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 211، م: 358
الحكم: حديث صحيح، محمد بن مصعب متابع، خ: 211، م: 358
حدیث نمبر: 3051 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ، فَقَالَ:" أَلَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ. قَالَ:" إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ مردہ ہے، فرمایا: اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3051]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1492، م: 363
الحكم: حديث صحيح، خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 3052 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (دوران سفر) حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3052]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837
حدیث نمبر: 3053 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ أَنْ تَشْتَرِطَ فِي إِحْرَامِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ضباعہ کو حکم دیا کہ اپنے احرام میں شرط لگا لے۔ فائدہ: وضاحت کے لئے حدیث نمبر 3117 دیکھئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3053]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي عن ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3054 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، بَعْضِ إِخْوَانِهِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ بَعْضِ إِخْوَانِهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ. فَقَالَ: دُلُّونِي عَلَيْهِ. وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ، قَالُوا: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَئِنْ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، لَأَعَضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ، وَلَئِنْ وَقَعَتْ رَقَبَتُهُ فِي يَدَيَّ، لَأَدُقَّنَّهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ تَصْطَكُّ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ" هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سُوءُ رَأْيِهِمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا، كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عبید مکی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں نے عرض کیا: ہمارے یہاں آج کل ایک آدمی آیا ہوا ہے جو تقدیر کا انکار کرتا ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اس کا پتہ تھا، اس وقت تک سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بینائی جا چکی تھی، لوگوں نے پوچھا کہ اے ابوالعباس! آپ اس کا کیا کریں گے؟ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر مجھے اس پر قدرت مل گئی تو میں اس کی ناک کاٹ دوں گا، اور اگر اس کی گردن میرے ہاتھ میں آ گئی تو اسے توڑ دوں گا، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں اس وقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں جب بنو فہر کی مشرک عورتیں خزرج کے لوگوں کے ساتھ طواف کریں گی اور ان کی سرین حرکت کرتے ہوں گے، یہ اس امت میں شرک کا آغاز ہوگا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، ان لوگوں تک ان کی رائے کی برائی پہنچ کر رہے گی یہاں تک کہ اللہ انہیں اس کیفیت سے نکال دے گا جس میں وہ خیر کا فیصلہ کرتا ہے، جیسے انہیں اس کیفیت سے نکالا تھا جس میں وہ شر کا فیصلہ کرتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3054]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عبيد المكي، ثم هو لم يرو عن ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف محمد بن عبيد المكي، ثم هو لم يرو عن ابن عباس
حدیث نمبر: 3055 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الْعَلَاءُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِيَ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. قُلْتُ: أَدْرَكَ مُحَمَّدٌ ابْنَ عَبَّاسٍ؟، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3055]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 3056 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلَامٌ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ، فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" قَتَلُوهُ قَتَلَهُمْ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کو کوئی زخم لگ گیا، اتفاق سے اسے خواب بھی آ گیا، لوگوں نے اسے غسل کرنے کا حکم دے دیا، جس کی وجہ سے وہ مر گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا: انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں قتل کرے، کیا جہالت کا علاج پوچھنا نہ تھا؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3056]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وفي إسناده انقطاع بين الأوزاعي و بين عطاء
الحكم: حديث حسن، وفي إسناده انقطاع بين الأوزاعي و بين عطاء
حدیث نمبر: 3057 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ عَلَى دَابَّتِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَيْهَا، كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَسَبَّحَ اللَّهَ ثَلَاثًا، وَهَلَّلَ اللَّهَ وَاحِدَةً، ثُمَّ اسْتَلْقَى عَلَيْهِ، فَضَحِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَرْكَبُ دَابَّتَهُ، فَيَصْنَعُ كَمَا صَنَعْتُ، إِلَّا أَقْبَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَضَحِكَ إِلَيْهِ، كَمَا ضَحِكْتُ إِلَيْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، اور جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو تین مرتبہ اللہ اکبر، تین مرتبہ الحمدللہ، تین مرتبہ سبحان اللہ اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا، پھر چت لیٹ گئے اور ہنسنے لگے، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: جو شخص بھی اپنی سواری پر سوار ہو کر اسی طرح کرے جیسے میں نے کیا تو اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کی طرف اسی طرح مسکرا کر دیکھتا ہے جیسے میں نے تمہیں مسکرا کر دیکھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3057]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبوبكر بن عبدالله ضعيف، وعلي بن أبى طلحة لم يدرك ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، أبوبكر بن عبدالله ضعيف، وعلي بن أبى طلحة لم يدرك ابن عباس