عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، خَالِدٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ" فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ. وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ سورة القمر آية 45.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن اپنے خیمے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے فرمایا: ”الہی! اپنا وعدہ پورا فرما، الہی! اگر (آج یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہو گئے تو) زمین میں پھر کبھی بھی آپ کی عبادت نہیں کی جائے گی۔“ یہ دیکھ کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے رب سے بہت دعا کر لی، وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ [القمر: 45] » ”عنقریب اس جمعیت کو شکست ہو جائے گی اور یہ لوگ پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3042]
حکم دارالسلام
إسناه صحيح، خ: 4875
الحكم: إسناه صحيح، خ: 4875