عَفَّانُ ، سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَبِي ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ فُلَانٌ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ، وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا، قَالَ: وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنَ أَخِي، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ، وَبَصَرَهُ، وَلِسَانَهُ، غُفِرَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے فلاں (فضل) سوار تھا، وہ نوجوان، عورتوں کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس کا چہرہ پیچھے کی طرف کئی مرتبہ پھیرا، لیکن وہ پھر بھی کن اکھیوں سے انہیں دیکھتا رہا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بھتیجے! آج کا دن ایسا ہے کہ جو شخص اس میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں اور زبان کی حفاظت کرے گا، اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3041]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، سكين بن عبدالعزيز مختلف فيه، وأبوه مجهول