عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ، خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَهْدَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، قَالَ: فَدَعَا بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ، وَتَرَكَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ، فَلَوْ كُنَّ حَرَامًا، مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا، اور نہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کھانے کی اجازت دیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3040]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5389
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5389