بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 37 از 86
حدیث نمبر: 2558 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْبَرَازِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَنَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟ فَقَالَ:" مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَوَضَّأُ؟! أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ أَوَصَلَّيْتُ فَأَتَوَضَّأُ؟!".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2558]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374
الحكم: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 2559 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نِمْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ،" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَتَى الْحَاجَةَ، ثُمَّ جَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ، وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، وَتَمَطَّيْتُ كَرَاهَةَ أَنْ يَرَانِي كُنْتُ أَبْقِيهِ، يَعْنِي: أَرْقُبُهُ، ثُمَّ قُمْتُ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِمَا يَلِي أُذُنِي حَتَّى أَدَارَنِي، فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ، وَهُوَ يُصَلِّي، فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آ کر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سو گئے، پھر کچھ رات گزرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2559]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2560 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2560]
حکم دارالسلام
إسناده قوي. خ: 1837، م: 1410. وقصة الاحتجام: خ: 1835، م: 1202
الحكم: إسناده قوي. خ: 1837، م: 1410. وقصة الاحتجام: خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 2561 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَجْلَحِ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَجْلَحِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ , فَقَالَ:" جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا، بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تن تنہا چاہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2561]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الأجلح مختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الأجلح مختلف فيه
حدیث نمبر: 2562 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، مِقْسَمًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سب کونوں میں دعا فرمائی اور باہر نکل کر دو رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2562]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عثمان الجزري روى أحاديث مناكير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عثمان الجزري روى أحاديث مناكير
حدیث نمبر: 2563 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ ، مَنْ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ , أَخْبَرَنِي مَنْ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" لَمْ يَنْزِلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2563]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الراوي عن ابن عباس
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة الراوي عن ابن عباس
حدیث نمبر: 2564 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2564]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1543
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1543
حدیث نمبر: 2565 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقام سرف میں محرم ہونے کے باوجود سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4258
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4258
حدیث نمبر: 2566 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ , فَقَالَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2566]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2567 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَرَقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَقَامَ فَبَالَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَعَمَدَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ، أَوْ الْقَصْعَةِ، وَأَكَبَّ يَدَهُ عَلَيْهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، قَالَ: ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى، وَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ، أَوْ فِي سُجُودِهِ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْنِي نُورًا" , قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ:" اجْعَلْ لِي نَوَرًا" , قَالَ: وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّهُ نَامَ مُضْطَجِعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آ کر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سو گئے، پھر کچھ رات گزرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا» اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنا دے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2567]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 138، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، خ: 138، م: 763
حدیث نمبر: 2568 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عبد الله , عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ، رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6345، م: 2730
حدیث نمبر: 2569 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، عُمَرَ بْنَ حَرْمَلَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ حَرْمَلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا، وَلَبَنًا، وَأَضُبًّا، فَأَمَّا الْأَضُبُّ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: قَذِرْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ أَوْ أَجَلْ" , وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَنْ يَمِينِهِ:" أَمَا إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ، وَلَكِنْ أَتَأْذَنُ أَنْ أَسْقِيَ عَمَّكَ؟" , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ: لَا، وَاللَّهِ مَا أَنَا بِمُؤْثِرٍ عَلَى سُؤْرِكَ أَحَدًا , قَالَ: فَأَخَذْتُهُ، فَشَرِبْتُ، ثُمَّ أَعْطَيْتُهُ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَعْلَمُ شَرَابًا يُجْزِئُ عَنِ الطَّعَامِ غَيْرَ اللَّبَنِ، فَمَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَزِدْنَا مِنْهُ، وَمَنْ طَعِمَ طَعَامًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری خالہ ام حفیق نے ہدیہ کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گھی، دودھ اور گوہ بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گوہ کو دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں؟ فرمایا: ہاں! پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ کا برتن پکڑا اور اسے نوش فرمایا، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب تھا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بائیں جانب، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم اجازت دو تو میں تمہارے چچا کو پینے کے لئے دے دوں؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چنانچہ میں نے اس دودھ کا برتن پکڑا اور اسے پی لیا، اس کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ» اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور اس سے بہترین کھلا، اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعا کرے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ» اے اللہ! ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما، کیونکہ میرے علم کے مطابق کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کر سکتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2569]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة عمر بن حرملة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ولجهالة عمر بن حرملة
حدیث نمبر: 2570 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَمْرٌو ، سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَأُتِيَ بِعَرْقٍ، فَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَأَكَلَ مِنْهُ" , وَزَادَ عَمْرٌو عَلَيَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَمْ تَتَوَضَّأْ! قَالَ:" مَا أَرَدْتُ الصَّلَاةَ فَأَتَوَضَّأَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ فرمایا: کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2570]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374
الحكم: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 2571 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ , وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ فِي الشَّرَابِ" , وَكَتَبَ أَبِي فِي أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ، لَا أُرَى عَبْدَ اللَّهِ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2571]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف سعيد بن محمد بن الوراق ورشدين بن كريب، وعندهما مناكير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف سعيد بن محمد بن الوراق ورشدين بن كريب، وعندهما مناكير
حدیث نمبر: 2572 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ الْعَصَرِيُّ ، جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ الْعَصَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَضَيَّفْتُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتِي، وَهِيَ لَيْلَةَ إِذْ لَا تُصَلِّي، فَأَخَذَتْ كِسَاءً فَثَنَتْهُ، وَأَلْقَتْ عَلَيْهِ نُمْرُقَةً، ثُمَّ رَمَتْ عَلَيْهِ بِكِسَاءٍ آخَرَ، ثُمَّ دَخَلَتْ فِيهِ، وَبَسَطَتْ لِي بِسَاطًا إِلَى جَنْبِهَا، وَتَوَسَّدْتُ مَعَهَا عَلَى وِسَادِهَا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَأَخَذَ خِرْقَةً فَتَوَزَرَ بِهَا، وَأَلْقَى ثَوْبَهُ، وَدَخَلَ مَعَهَا لِحَافَهَا، وَبَاتَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، قَامَ إِلَى سِقَاءٍ مُعَلَّقٍ فَحَرَّكَهُ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ، فَكَرِهْتُ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ مُسْتَيْقِظًا، قَالَ: فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَتَى الْفِرَاشَ، فَأَخَذَ ثَوْبَيْهِ، وَأَلْقَى الْخِرْقَةَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فِيهِ يُصَلِّي، وَقُمْتُ إِلَى السِّقَاءِ، فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَنَاوَلَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى وَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ، وَقَعَدْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ مِرْفَقَهُ إِلَى جَنْبيِ، وَأَصْغَى بِخَدِّهِ إِلَى خَدِّي، حَتَّى سَمِعْتُ نَفَسَ النَّائِمِ، فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَسَارَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَاتَّبَعْتُهُ، فَقَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ، وَأَخَذَ بِلَالٌ فِي الْإِقَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، انہوں نے ایک چادر لے کر اسے تہہ کیا، اس پر تکیہ رکھا اور دوسری چادر بچھا کر اسے اوڑھ کر لیٹ گئیں، میرے لئے انہوں نے اپنے ساتھ ایک بستر بچھا دیا تھا اور میں ان ہی کے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ گیا، عشا کی نماز پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لائے اور کپڑے اتار کر تہبند باندھ لیا اور ان کے ساتھ لحاف اوڑھ لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات ہوئی، یا اس سے کچھ پہلے، یا اس سے کچھ بعد کا وقت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہو کر بیٹھ گئے، پھر کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے، پہلے میں نے سوچا کہ میں اٹھ کر جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وضو کراؤں لیکن پھر مجھے یہ مناسب معلوم نہ ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میری بیداری کا علم ہو، بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور تہبند اتار کر کپڑے پہن لئے اور مسجد آ کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا اور جا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور مجھے اپنی دائیں جانب کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور ان کے ساتھ میں نے بھی کل تیرہ رکعتیں پڑھیں، پھر بیٹھ گئے، میں بھی ان کے پہلو میں بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کہنی میرے پہلو پر رکھ دی اور اپنا رخسار میرے رخسار کے قریب کر دیا حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی، کچھ ہی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آ گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! نماز، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد کی طرف چل پڑے، میں بھی پیچھے تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر دو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اقامت کہنے لگے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2572]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، وراية إسحاق بن عبدالله عن ابن عباس مرسلة
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن ثابت ضعيف، وراية إسحاق بن عبدالله عن ابن عباس مرسلة
حدیث نمبر: 2573 مسند احمد
ابْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَذَكَرَ شَيْئًا، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكْثِرُ السِّوَاكَ"، قَالَ: حَتَّى ظَنَنَّا أَوْ رَأَيْنَا أَنَّهُ سَيُنْزَلُ عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی کثرت کے ساتھ مسواک فرماتے تھے کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے (اور امت اس حکم کو پورا نہ کر سکے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2573]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة التميمي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة التميمي
حدیث نمبر: 2574 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَطَبَ، وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَعُثْمَانُ، فِي الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ" , قَالَ أَبِي: قَدْ سَمِعَهُ عَبْدُ اللَّهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2574]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2575 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي السَّفَرِ ، سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ شُفَيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُمْ جَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِهِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے ان سے سفر میں نماز کے متعلق پوچھنا شروع کر دیا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر سے نکلنے کے بعد گھر واپس آنے تک دو رکعت نماز (قصر) ہی پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2575]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2576 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّهِ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْأَحْمَرُ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ، وَلَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شہر میں دو قبلے نہیں ہو سکتے، اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2576]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف قابوس
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف قابوس
حدیث نمبر: 2577 مسند احمد
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، رَفَعَهُ أَيْضًا , قَالَ:" لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ، وَلَيْسَ عَلَى مُسْلِمٍ جِزْيَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک زمین میں دو قبلے نہیں ہو سکتے، اور مسلمان پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2577]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه