بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 68 از 86
حدیث نمبر: 3178 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3179 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ
(حديث مرفوع) حدثنا حدثنا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَذَكَرَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ، وَأَنَّهُ رَأَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام آدَمَ طُوَالًا، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عِيسَى مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، جَعْدًا، وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى الدَّجَّالَ، وَمَالِكًا خَازِنَ النَّارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبےقد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ و سفید اور گھنگھریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3179]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3239، 3413، م: 165
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3239، 3413، م: 165
حدیث نمبر: 3180 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا الْعَالِيَةِ الرَّيَاحِيَّ ، ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ
رقم الحديث: 3057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ الرَّيَاحِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ، فَقَالَ:" مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ"، وَقَالَ:" عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ" وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبےقد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ و سفید اور گھنگھریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3180]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3395، م: 2377 أنظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3395، م: 2377 أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 3181 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَعَّبَتْ بِالنَّاسِ" أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ، فَقَالَ: سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے، اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3181]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1244
الحكم: إسناده صحيح، م: 1244
حدیث نمبر: 3182 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ، يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ بُجَيْلٍ، لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذِهِ الْفَتْوَى الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ النَّاسَ" مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ: سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ". قَالَ شُعْبَةُ: أَنَا أَقُولُ: شَغَبَتْ، وَلَا أَدْرِي كَيْفَ هِيَ؟
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3182]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3183 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3183]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3184 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم" يصلي بمنى، وأنا على حمار، فتركته بين يدي الصف، فدخلت في الصلاة، وقد ناهزت الاحتلام، فلم يعب ذلك".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو میدان منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں ایک گدھی پر سوا ہو کر آیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا، اور اس وقت میں قریب البلوغ تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 76، م: 504
الحكم: إسناده صحيح، خ: 76، م: 504
حدیث نمبر: 3185 مسند احمد
وقرأت على عبد الرحمن هذا الحديث، قَالَ:" أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں - جو کہ قریب البلوغ تھا - اور فضل ایک گدھی پر سوا ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3185]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3186 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3186]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5617، م:2027
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5617، م:2027
حدیث نمبر: 3187 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، أَبُو زُمَيْلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ، اعْتَزَلُوا، فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ صَالَحَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لِعَلِيٍّ:" اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالُوا: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْحُ يَا عَلِيُّ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ، امْحُ يَا عَلِيُّ وَاكْتُبْ: هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ" وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ مَحَا نَفْسَهُ، وَلَمْ يَكُنْ مَحْوُهُ ذَلِكَ يُمْحَاهُ مِنَ النُّبُوَّةِ، أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حروریہ فرقے نے خروج کیا تو وہ سب سے کٹ گئے، میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکین سے صلح کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: علی! لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے، جس کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صلح کی ہے۔ مشرکین قریش کہنے لگے کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول سمجھتے تو کبھی آپ سے قتال نہ کرتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: علی! اسے مٹا دو، اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں، علی! اسے مٹا دو اور یہ لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے کیا ہے۔ میں نے خوارج سے کہا: واللہ! اللہ کے رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہتر تھے، اور انہوں نے اپنا نام مٹا دیا تھا لیکن تحریر سے اسے مٹا دینے کی وجہ سے وہ نبوت سے ہی نہیں چلے گئے تھے، کیا میں اس سے نکل آیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3187]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3188 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ، ادَّعَى نَاسٌ مِنَ النَّاسِ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بنا پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے، جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2514، م: 1711
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2514، م: 1711
حدیث نمبر: 3189 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جب وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3190 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَقَالَ:" كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسْطِهَا، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسْطِهَا". قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: مِنْ جَوَانِبِهَا أَوْ مِنْ حَافَتَيْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا: پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3190]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 3191 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبِي عَوَانَةَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، فَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ: فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّكُ شَفَتَيَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ. وَقَالَ لِي سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُ كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ سورة القيامة آية 16 - 17، قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَأَه فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ سورة القيامة آية 18 فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ: ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19 فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ، قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت قرآنی: «‏‏‏‏ ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ﴾ [القيامة: 16] » آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی مت حرکت دیا کریں۔ کی تفسیر میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نزول وحی کے وقت کچھ سختی محسوس کرتے تھے اور وحی کو محفوظ کرنے کے خیال سے اپنے ہونٹوں کو ہلاتے رہتے تھے، یہ کہہ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے فرمایا کہ میں تمہیں اس طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہلاتے تھے، پھر ان کی نقل ان کے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اپنے شاگرد کے سامنے کی، بہرحال! اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ o إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ o فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ o ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾ [القيامة: 16-19] » آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی مت حرکت دیا کریں، اس قرآن کو آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبانی اسے پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ رہے ہوں تو آپ خاموش رہ کر اسے توجہ سے سنئے، پھر اس کی وضاحت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کے واپس چلے جانے کے بعد اسی طرح پڑھ کر سنا دیا کرتے تھے جیسے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھایا ہوتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5، م: 448
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5، م: 448
حدیث نمبر: 3192 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَلَى حُمُرَاتِنَا لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا، وَيَقُولُ:" أَبْيَنيَّ، لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا إِخَالُ أَحَدًا يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا: پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3192]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، حسن بن عبدالله العرني لم يسمع من ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، حسن بن عبدالله العرني لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3193 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ ، الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ جَدْيًا سَقَطَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَلَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز نہیں توڑی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3193]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 3194 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، سَلَمَةَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَتَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ قَامَ، فَأَتَى الْقِرْبَةَ، فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فَقُمْتُ فَتَمَطَّأْتُ، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْتَقِبُهُ، فَتَوَضَّأْتُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي بِأُذُنِي، فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ، فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا". قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ. قَالَ: فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ، فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ، فَذَكَرَ عَصَبِي، وَلَحْمِي، وَدَمِي، وَشَعْرِي، وَبَشَرِي. قَالَ: وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آ کر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سو گئے، پھر کچھ رات گزرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہو گئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنا دے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3194]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6316، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6316، م: 763
حدیث نمبر: 3195 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3195]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م:1336
الحكم: حديث صحيح، م:1336
حدیث نمبر: 3196 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3196]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1336
الحكم: إسناده صحيح، م: 1336
حدیث نمبر: 3197 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ: كَانَ شُعْبَةُ يَتَفَقَّدُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ، فَقَالَ يَوْمًا: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْغُلَامُ الْجَمِيلُ؟ يَعْنِي شَبَابَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3197]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي مجهول