بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 20 از 86
حدیث نمبر: 2218 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ :" أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ، وَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ سورة آل عمران آية 86 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَبَعَثَ بِهَا قَوْمُهُ، فَرَجَعَ تَائِبًا، فَقَبِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنْهُ، وَخَلَّى عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ . . . . .﴾ [آل عمران: 86] » اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جس نے ایمان کے بعد کفر کیا ہو . . . . .۔ اس کی قوم نے اسے یہ آیت پہنچا دی اور وہ توبہ کر کے واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی توبہ قبول فرما لی اور اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2218]
حکم دارالسلام
صحيح، على بن عاصم متابع
الحكم: صحيح، على بن عاصم متابع
حدیث نمبر: 2219 مسند احمد
عَلِيٌّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ، يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں، اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو، اور تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2219]
حکم دارالسلام
صحيح، على بن عاصم متابع
الحكم: صحيح، على بن عاصم متابع
حدیث نمبر: 2220 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ بِالْبَيْتِ، إِذَا انْتَهَى إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي مَشَى، حَتَّى يَأْتِيَ الْحَجَرَ، ثُمَّ يَرْمُلُ، وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ" , قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكَانَتْ سُنَّةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چکروں میں رمل کیا ہے، رکن یمانی تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی رفتار سے چلتے رہتے اور جب حجر اسود پر پہنچتے تو رمل شروع کر دیتے اور چار چکر عام رفتار سے لگائے، اور یہ سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2220]
حکم دارالسلام
صحيح، على بن عاصم متابع، الجريري كان قد اختلط
الحكم: صحيح، على بن عاصم متابع، الجريري كان قد اختلط
حدیث نمبر: 2221 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، الْحَذَّاءُ ، بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَذَّاءُ ، عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ، مُسْتَقْبِلًا الْحُجَرَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَضَحِكَ , ثُمَّ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَيْءٍ، حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجر اسود کا رخ کر کے مسجد حرام میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیتا ہے تو ان پر اس کی قیمت بھی حرام کر دیتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2221]
حکم دارالسلام
صحيح، على بن عاصم متابع
الحكم: صحيح، على بن عاصم متابع
حدیث نمبر: 2222 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَبُو الْمُعَلَّى الْعَطَّارُ ، الْحَسَنُ الْعُرَنِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُعَلَّى الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْعُرَنِيُّ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ :" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ، وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمْ بِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ كَلْبًا وَحِمَارًا، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقْبَلْتُ عَلَى حِمَارٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ قَرِيبًا مِنْهُ مُسْتَقْبِلَهُ نَزَلْتُ عَنْهُ، وَخَلَّيْتُ عَنْهُ، وَدَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ، فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، وَلَا نَهَانِي عَمَّا صَنَعْتُ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَتْ وَلِيدَةٌ تَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، حَتَّى عَاذَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا أَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، وَلَا نَهَاهَا عَمَّا صَنَعَتْ، وَلَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ، فَخَرَجَ جَدْيٌ مِنْ بَعْضِ حُجُرَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ يَجْتَازُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَفَلَا تَقُولُونَ: الْجَدْيُ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسن عرفی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ایک مرتبہ یہ تذکرہ چھڑ گیا کہ کتا، گدھا اور عورت نمازی کے آگے سے گزر جائیں تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، انہوں نے فرمایا کہ تم نے ایک مسلمان عورت کو کتے اور گدھے کے برابر قرار دے کر اچھا نہیں کیا، مجھے وہ وقت یاد ہے کہ میں خود ایک گدھے پر سوار ہو کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب میں سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہو گیا تو میں اس سے اتر پڑا اور اسے چھوڑ کر خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی مجھے میرے فعل سے منع فرمایا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک بچی آ کر صفوں میں گھس گئی اور جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چمٹ گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز کو لوٹایا اور نہ ہی اس بچی کو منع فرمایا۔ نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے روک دیا، اب تم یہ کیوں نہیں کہتے کہ بکری کا بچہ نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2222]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن عاصم لكنه متابع. ثم هو منقطع بين الحسن العرني وبين ابن عباس
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن عاصم لكنه متابع. ثم هو منقطع بين الحسن العرني وبين ابن عباس
حدیث نمبر: 2223 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ ، الْحَسَنُ يَعْنِي أَبَا الْمَلِيحِ ، حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي أَبَا الْمَلِيحِ ، عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَنْ قَدِمَ حَاجًّا، وَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَدْ انْقَضَتْ حَجَّتُهُ، وَصَارَتْ عُمْرَةً، كَذَلِكَ سُنَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص حج کے لئے آیا، بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تو اس کا حج پورا ہو گیا اور عمرہ ہو گیا، اللہ کا طریقہ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت یہی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2223]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالله بن ميمون لم يذكروه بجرح ولا تعديل
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالله بن ميمون لم يذكروه بجرح ولا تعديل
حدیث نمبر: 2224 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، سَيْفٌ ، قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنَا سَيْفٌ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گواہ اور اس کے ساتھ مدعی سے ایک مرتبہ قسم لینے پر فیصلہ فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2224]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1712
الحكم: إسناده صحيح، م: 1712
حدیث نمبر: 2225 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقِّيُّ أَبُو يَزِيدَ ، فُرَاتٌ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقِّيُّ أَبُو يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ: لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ، لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ , قَالَ: فَقَالَ:" لَوْ فَعَلَ , لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوْا الْمَوْتَ، لَمَاتُوا، وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ، وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا: اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے، اگر یہودی موت کی تمنا کر لیتے تو مر جاتے اور انہیں جہنم میں ان کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا، اور اگر وہ لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لئے آئے تھے، باہر نکلتے تو اپنے گھر اس حال میں لوٹ کر جاتے کہ اپنے مال و دولت اور اہل خانہ میں سے کسی کو نہ پاتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2225]
حکم دارالسلام
صحيح، إسماعيل بن يزيد فيه جهالة، لكنه توبع
الحكم: صحيح، إسماعيل بن يزيد فيه جهالة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2226 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو جَهْلٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2226]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2227 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ ، فِي شَوَّالٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَجَعَلَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ أَتَى السِّقَايَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ، وَبَنُو عَمِّهِ يَنْزِعُونَ مِنْهَا، فَقَالَ:" نَاوِلُونِي" , فَرُفِعَ لَهُ الدَّلْوُ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَهُ نُسُكًا، وَيَغْلِبُونَكُمْ عَلَيْهِ، لَنَزَعْتُ مَعَكُم" , ثُمَّ خَرَجَ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بنو عم اس میں سے پانی نکال رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا گیا جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش کر کے فرمایا: اگر لوگ اسے بھی حج کا رکن نہ سمجھ لیتے اور تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ ڈول بھر بھر کر پانی نکالتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جا کر صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2227]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 2228 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ صَائِمًا مُحْرِمًا، فَغُشِيَ عَلَيْهِ" , قَالَ: فَلِذَلِكَ كَرِهَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ دار ہونے کی حالت میں محرم ہو کر سینگی لگوائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اس کی وجہ سے غشی طاری ہو گئی، اسی بناء پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2228]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج مدلس وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 2229 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، الْحَجَّاجِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلََمَ" أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ مَنْ خَرَجَ إِلَيْهِ مَنْ الْعَبِيدِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ طائف کے دن مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا، جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2229]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، وبينه وبين مقسم، الحكم بن عتيبة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، حجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن، وبينه وبين مقسم، الحكم بن عتيبة
حدیث نمبر: 2230 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، الْحَجَّاجُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، قَالَ: ثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ، فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ، خَبِيثُ الدِّيَة" , فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کر دیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کر دو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2230]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف نصر بن باب، وتدليس الحجاج
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف نصر بن باب، وتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 2231 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، الْحَجَّاجُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، أَوْ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زوال آفتاب کے وقت یا اس کے بعد جمرات کی رمی کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2231]
حکم دارالسلام
صحيح لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، وقد توبع
الحكم: صحيح لشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف نصر بن باب، وقد توبع
حدیث نمبر: 2232 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ، وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اہل بدر تین سو تیرہ (313) افراد تھے۔ جن میں چھہتر (76) مہاجرین بھی شامل تھے، غزوہ بدر میں مشرکین کو سترہ (17) رمضان بروز جمعہ ہزیمت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2232]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج
الحكم: إسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 2233 مسند احمد
مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَالَ عَبْد اللَّهِ , وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْمَحْ , يُسْمَحْ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: در گزر سے کام لیا کرو، تم سے در گزر کی جائے گی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2233]
حکم دارالسلام
صحيح، مهدي بن جعفر متابع
الحكم: صحيح، مهدي بن جعفر متابع
حدیث نمبر: 2234 مسند احمد
مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، الْحَكَمِ بْنِ مُصْعَبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ، وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مُصْعَبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ، جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کثرت سے استغفار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر غم سے کشادگی اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکال دیں گے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2234]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحكم بن مصعب مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، الحكم بن مصعب مجهول
حدیث نمبر: 2235 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ، وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَرٍّ يَقَعُ فِيهِ، مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ , قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ هُمْ؟ وَإِنَّا كُنَّا نُرَى قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا , وَسَأَلَهُ عَنِ الْيَتِيمِ: مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ؟ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ، وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ، دُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ، وَقَدْ انْقَضَى يُتْمُهُ , وَسَأَلَهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا , وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ , وَسَأَلَهُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ: هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ؟ وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کا خط پڑھ کر اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہو سکتا ہے تو میں کبھی بھی اسے جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہو جائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہو گئی، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا، تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1812
الحكم: إسناده صحيح، م: 1812
حدیث نمبر: 2236 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ، قَالَ:" لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ , لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا: اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2237 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح