نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ ، الْحَجَّاجِ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ أَبُو سَهْلٍ ، فِي شَوَّالٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَجَعَلَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، ثُمَّ أَتَى السِّقَايَةَ بَعْدَمَا فَرَغَ، وَبَنُو عَمِّهِ يَنْزِعُونَ مِنْهَا، فَقَالَ:" نَاوِلُونِي" , فَرُفِعَ لَهُ الدَّلْوُ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ يَتَّخِذُونَهُ نُسُكًا، وَيَغْلِبُونَكُمْ عَلَيْهِ، لَنَزَعْتُ مَعَكُم" , ثُمَّ خَرَجَ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بنو عم اس میں سے پانی نکال رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے پانی پلاؤ“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی کا ڈول پیش کیا گیا جسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوش کر کے فرمایا: ”اگر لوگ اسے بھی حج کا رکن نہ سمجھ لیتے اور تم پر غالب نہ آجاتے تو میں بھی تمہارے ساتھ ڈول بھر بھر کر پانی نکالتا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جا کر صفا و مروہ کے درمیان سعی کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2227]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، نصر بن باب ضعيف، والحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن