بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 49 از 86
حدیث نمبر: 2798 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ، حَتَّى رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ، عَلَيَّ بِهِ قُرْآنٌ، أَوْ وَحْيٌ" النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلُ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2798]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي فى عداد المجهولين
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 2799 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2799]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2800 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَغَسَلَهَا سَبْعًا، قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ، فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ، فَسَأَلَنِي: كَمْ أَفْرَغْتُ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي! فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، وَلِمَ لَا تَدْرِي؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ، قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ، يَعْنِي يَغْتَسِلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شعبہ - جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں - کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما غسل جنابت کرتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اسے برتن میں ڈالنے سے پہلے سات مرتبہ دھوتے، ایک مرتبہ وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ تو مجھ سے پوچھنے لگے کہ میں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو نہیں پتہ، فرمایا: تیری ماں نہ رہے، تجھے کیوں نہیں پتہ؟ پھر انہوں نے نماز والا وضو کر لیا، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی بہا لیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح غسل فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2800]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، دون قوله: فغسلها سبعا، وهذا إسناد ضعيف، شعبة بن دينار سيئ الحفظ
الحكم: صحيح لغيره، دون قوله: فغسلها سبعا، وهذا إسناد ضعيف، شعبة بن دينار سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 2801 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ نَادَى" يَا صَبَاحَاهْ" فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ إِلَيْهِ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي يا بَني، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ، صَدَّقْتُمُونِي؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ"، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: « ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [الشعراء: 214] » اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے «يَا صَبَاحَاهُ» کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے بنو عبدالمطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟ سب نے کہا: کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں۔ ابولہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ) اس پر سورہ لہب نازل ہوئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2801]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: (4971)، من 208
الحكم: إسناده صحيح، خ: (4971)، من 208
حدیث نمبر: 2802 مسند احمد
حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عِكْرِمَةُ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَصْحَابِهِ، وَقَالَ:" اذْبَحُوهَا لِعُمْرَتِكُمْ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْكُمْ". فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بکریاں تقسیم کیں اور فرمایا کہ انہیں اپنے عمرے کی طرف سے ذبح کر لو، یہ تمہارے لئے کافی ہو جائیں گی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں اس موقع پر ایک جنگلی بکرا آیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2802]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2803 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، الْحَجَّاجِ بْنِ الْفُرَافِصَةِ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّانِ ، قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْفُرَافِصَةِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَأَنَا قَدْ رَأْيَتُهُ فِي طَرِيقٍ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، وَأَنَا صَبِيٌّ رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ وَحَدَّثَنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ , وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّانِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ أَنَّهُ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا غُلَامُ أَوْ يَا غُلَيِّمُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ؟"، فَقُلْتُ: بَلَى. فَقَالَ:" احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ، يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَإِذَا سَأَلْتَ، فَاسْأَلْ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ، فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ دے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، تم اسے خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے، اور یاد رکھو! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2803]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2804 مسند احمد
الْأَشْجَعِيُّ ، سُفْيَانَ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَرْخَيْنَاهُ بَيْنَ أَيْدِينَا يَرْعَى، فَلَمْ يَقْطَعْ. قَالَ: وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَسْتَبِقَانِ، فَفَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَلَمْ يَقْطَعْ، وَسَقَطَ جَدْيٌ، فَلَمْ يَقْطَعْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور بنو عبدالمطلب کا ایک غلام ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب ہم سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہوئے تو ہم اس سے اتر پڑے اور اسے چھوڑ کر خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا، نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے نماز نہیں توڑی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2804]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 2805 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِمُّ مِنْ فَضْلِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2805]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2806 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2806]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهو مكرر : 2100
الحكم: صحيح لغيره، وهو مكرر : 2100
حدیث نمبر: 2807 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ فِي الْمُصَنَّفِ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، ثُمَّ جَعَلَهُ بَعْدُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2807]
حکم دارالسلام
قال الشيخ أحمد شاكر : هذا بيان للإسناد السابق
الحكم: قال الشيخ أحمد شاكر : هذا بيان للإسناد السابق
حدیث نمبر: 2808 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2808]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا سند ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
الحكم: حديث صحيح، وهذا سند ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
حدیث نمبر: 2809 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجٌ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2809]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2810 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ، وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ، فَأَفْتِنِي فِيهَا؟ قَالَ: ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، قَالَ: أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ سمعتُ رَسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ، يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ" فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَاجْعَلْ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالعباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، مجھے اس کے جواز یا عدم جواز کے متعلق فتوی دیجئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ قریب ہو گیا، پھر انہوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ ہر مصور جہنم میں جائے گا اور اس نے جتنی تصاویر بنائی ہوں گی اتنے ہی ذی روح پیدا کیے جائیں گے جو جہنم میں اسے مبتلاء عذاب رکھیں گے، اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2110
الحكم: إسناده صحيح، م: 2110
حدیث نمبر: 2811 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، جَعْفَرٌ ، أَبِيهِ ، يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ حَدَّثَنِي جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمِي لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ. كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَأَخْبِرْنِي عَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ مَعَهُ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَلَمْ يَكُنْ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يُحْذِيهِنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ، وَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَهُ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ، وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ، وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ يُتْمِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ تَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَهُوَ ضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ؟ فَإِذَا كَانَ يَأْخُذُ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ، فَقَدْ ذَهَبَ الْيُتْمُ، وَأَمَّا الْخُمُسُ فَإِنَّا كُنَّا نُرَى أَنَّهُ لَنَا، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر پانچ سوالات پوچھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگ سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما خوارج سے خط و کتابت کرتا ہے، واللہ اگر مجھے کتمان علم کا خوف نہ ہوتا تو میں کبھی اس کا جواب نہ دیتا۔ نجدہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ یہ بتائیے: کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے؟ ان کے لئے حصہ مقرر کرتے تھے؟ بچوں کو قتل کرتے تھے؟ یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور خمس کس کا حق ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جوابا لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھ خواتین کو جہاد پر لے جاتے تھے اور وہ مریضوں کا علاج کرتی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا حصہ مقرر نہیں کیا تھا البتہ انہیں بھی مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہو جائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہو گئی، ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2811]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1812
الحكم: حديث صحيح، م: 1812
حدیث نمبر: 2812 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، طَاوُسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، عَنْ طَاوُسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ، وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کو روشن کرنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہو گیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2812]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 769
الحكم: إسناده صحيح، م: 769
حدیث نمبر: 2813 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2813]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2814 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2814]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره
الحكم: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2815 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الطَّوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوم النحر کو رات تک کے لئے طواف زیارت مؤخر فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2815]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو الزبير موصوف بالتدليس وقد عنعن، وفي سماعه من ابن عباس وعائشة نظر
الحكم: إسناده ضعيف، أبو الزبير موصوف بالتدليس وقد عنعن، وفي سماعه من ابن عباس وعائشة نظر
حدیث نمبر: 2816 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زُهَيْرٍ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَهَ الْأَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَبَّ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی اندھے کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے۔ اور تین مرتبہ فرمایا: وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2816]
حکم دارالسلام
إسناده جيد، رجاله رجال الصحيح
الحكم: إسناده جيد، رجاله رجال الصحيح
حدیث نمبر: 2817 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْرَائِيلَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح