أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ، حَتَّى رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ، عَلَيَّ بِهِ قُرْآنٌ، أَوْ وَحْيٌ" النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِلُ هَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہو جائے“، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2798]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي فى عداد المجهولين
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، التميمي فى عداد المجهولين