عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ، وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ، فَأَفْتِنِي فِيهَا؟ قَالَ: ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، قَالَ: أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ سمعتُ رَسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ، يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ" فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا، فَاجْعَلْ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالعباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، مجھے اس کے جواز یا عدم جواز کے متعلق فتوی دیجئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، چنانچہ وہ قریب ہو گیا، پھر انہوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا: میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ ”ہر مصور جہنم میں جائے گا اور اس نے جتنی تصاویر بنائی ہوں گی اتنے ہی ذی روح پیدا کیے جائیں گے جو جہنم میں اسے مبتلاء عذاب رکھیں گے“، اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2810]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2110
الحكم: إسناده صحيح، م: 2110