بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 77 از 86
حدیث نمبر: 3358 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ، أَوْ أَضْحًى، فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس جا کر وعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 975
الحكم: إسناده صحيح، خ: 975
حدیث نمبر: 3359 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، سُمَيْعٌ الزَّيَّاتُ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ؟ فَقَالَ: يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ. فَقُلْتُ: حَدَّثَنِي سُمَيْعٌ الزَّيَّاتُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ، فَأَخَذَ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ اگر امام کے ساتھ صرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے کہا کہ امام کی بائیں جانب کھڑا ہو، میں نے ان سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث ذکر کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3360 مسند احمد
رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ، قَالَ: وَعَفَارُ النَّخْلِ: أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤْبَرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا. وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا، حَمْشًا، سَبْطَ الشَّعْرِ، وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ، جَعْدٌ قَطَطٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ بَيِّنْ" ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! واللہ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگھریالے بالوں والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس موقع پر دعا فرمائی: اے اللہ! حقیقت حال کو واضح فرما، اور ان کے درمیان لعان کروا دیا، اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3360]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3361 مسند احمد
رَوْحٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَاعُ التَّمْرُ حَتَّى يُطْعَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھل کی خرید و فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہو جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3362 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، أَبِي مُوسَى ، وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ، جَفَا، وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ، غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ، افْتَتَنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص دیہات میں رہا اس نے اپنے اوپر زیادتی کی، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہو گیا، اور جس کا بادشاہوں کے یہاں آنا جانا ہوا وہ فتنے میں مبتلا ہوا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3362]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى موسي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى موسي
حدیث نمبر: 3363 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةَ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، زَائِدَةُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ . وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَمَنْ مَعَهُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ. قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ثُمَّ جُعِلَتْ الْقِبْلَةُ نَحْوَ الْبَيْتِ، وقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو: ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة مضطرب، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سماك فى روايته عن عكرمة مضطرب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 3364 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ، صَفًّا خَلْفَهُ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثم ذَهَبَ هؤلاء إِلى مَصَافِّ هؤلاء، ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں - جس کا نام ذی قرد تھا - نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3365 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ ذَرٍّ ، أَبِيهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابْنِ ذَرٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا؟"، قَالَ: فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64، قَالَ: وَكَانَ ذَلِكَ الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (فترت وحی کا زمانہ گزرنے کے بعد) حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ . . . . .﴾ [مريم: 64] » ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے . . . . .۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3218
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3218
حدیث نمبر: 3366 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، إِسْرَائِيلَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو نُعَيْمٍ ، عِكْرِمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ". قال عبد الله: قال أَبي وحَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا. وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، أَسْنَدَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانے پینے کی چیزوں میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3367 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ:" خَلَقَهُمْ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے - جس نے انہیں پیدا کیا ہے - کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3368 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ:" لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رات کے درمیان نماز تہجد پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلٰهَ غَيْرُكَ» اے اللہ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو روشن کرنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو قائم رکھنے والے ہیں، اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے بادشاہ ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ! میں آپ کے تابع فرمان ہو گیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1120، م: 769
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1120، م: 769
حدیث نمبر: 3369 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَوْسَجَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ عَوْسَجَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ، وَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا يَرِثُهُ،" فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى مَوْلًى لَهُ أَعْتَقَهُ الْمَيِّتُ، هُوَ الَّذِي لَهُ وَلَاؤُهُ، وَالَّذِي أَعْتَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہو گیا، اس کا کوئی وارث بھی نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کر دیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث عطا فرما دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3369]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عوسجة مولي ابن عباس قال البخاري لم يصح حديثه
الحكم: إسناده ضعيف، عوسجة مولي ابن عباس قال البخاري لم يصح حديثه
حدیث نمبر: 3370 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي الْمِنْهَالِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ، أَوْ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلِّفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ، وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ، وَوَقْتٍ مَعْلُومٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھلوں میں بیع سلم کرو تو اس کی ماپ معین کرو اور اس کا وزن معین اور اس کا وقت طے کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 2253، ه: 1604
الحكم: إسناده صحيح، خ : 2253، ه: 1604
حدیث نمبر: 3371 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، زَائِدَةُ يَعْنِي ابْنَ قُدَامَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ يَعْنِي ابْنَ قُدَامَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3371]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك عن عكرمة مضطرب
حدیث نمبر: 3372 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطُرِحَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةٌ،" فَنَامَ فِي طُولِهَا، وَنَامَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، أَوْ قَبْلَهُ، أَوْ بَعْدَهُ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْآيَاتِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ، ثُمَّ قَامَ، فَأَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا، فَأَخَذَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي، ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَ يَفْتِلُهَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے تکیہ رکھ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی لمبائی پر سر رکھ کر سو گئے، گھر والے بھی سو گئے، پھر نصف رات یا اس سے کچھ آگے پیچھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے اور نیند کے اثرات دور کرنے لگے، پھر سورہ آل عمران کی اختتامی دس آیات مکمل پڑھیں، پھر مشکیزے کے پاس آ کر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 183، م: 793
الحكم: إسناده صحيح، خ: 183، م: 793
حدیث نمبر: 3373 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ وَعْلَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، وَقَالَ:" إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ" فَدَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ، فَقَالَ:" مَا أَمَرْتَهُ؟" فقَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. قَالَ:" فَإِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا". قَالَ: فَصُبَّتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ شراب حرام ہو چکی ہے، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے، چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحا میں بہا دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1579
الحكم: إسناده صحيح، م: 1579
حدیث نمبر: 3374 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: خَسَفَتْ الشَّمْسُ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ القيامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ. قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، وَلَمْ يَشُكَّ إِسْحَاقُ، قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ"، قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ"، قَالَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طویل قیام کیا، غالبا اتناجتنی دیر میں سورہ بقرہ پڑھی جا سکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جو کہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہو گئے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے؟ فرمایا: میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان کے کفر کی وجہ سے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں؟ فرمایا: (یہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3374]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 5197، م: 907
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 5197، م: 907
حدیث نمبر: 3375 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہو جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس دوران سیدنا فضل رضی اللہ عنہ اس عورت کو مڑ مڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3375]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1334
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1334
حدیث نمبر: 3376 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، نُبِّئْتُهُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَمْ نُبِّئْتُهُ عَنْهُ؟، قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا، وَقَالَ:" أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3376]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3377 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، الْفَضْلُ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَقَالَ مَرَّةً: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَحَدُ ابْنَيْ الْعَبَّاسِ، إِمَّا الْفَضْلُ ، وَإِمَّا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي، أَوْ أُمِّي قَالَ يَحْيَى: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: أَبِي كَبِيرٌ، وَلَمْ يَحُجَّ، فَإِنْ أَنَا حَمَلْتُهُ عَلَى بَعِيرٍ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهِ، وَإِنْ شَدَدْتَهُ عَلَيْهِ لَمْ آمَنْ عَلَيْهِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" أَكُنْتَ قَاضِيًا دَيْنًا لَوْ كَانَ عَلَيْهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاحْجُجْ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3377]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح