عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ وَعْلَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، وَقَالَ:" إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ" فَدَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ، فَقَالَ:" مَا أَمَرْتَهُ؟" فقَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. قَالَ:" فَإِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا". قَالَ: فَصُبَّتْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ”شراب حرام ہو چکی ہے“، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے پوچھا کہ ”تم نے اسے کیا کہا ہے؟“ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے“، چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحا میں بہا دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1579
الحكم: إسناده صحيح، م: 1579