عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ، صَفًّا خَلْفَهُ، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثم ذَهَبَ هؤلاء إِلى مَصَافِّ هؤلاء، ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں - جس کا نام ذی قرد تھا - نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3364]
الحكم: إسناده صحيح