بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 33 از 86
حدیث نمبر: 2478 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، سُفْيَانُ ، دُوَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَوْبَانَ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دُوَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2478]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، دويد البصري لين وإسماعيل مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، دويد البصري لين وإسماعيل مجهول
حدیث نمبر: 2479 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ عِنْدَ النَّوْمِ، يُنْبِتُ الشَّعْرَ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ، وَخَيْرُ ثِيَابِكُمْ الْبَيَاضُ، فَالْبَسُوهَا، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا بہترین سرمہ اثمد ہے جو سوتے وقت لگانے سے بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے، سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2479]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2480 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُتَّخَذَ شَيْءٌ فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2480]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 1957
الحكم: إسناده قوي، م: 1957
حدیث نمبر: 2481 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" الْأَيِّمُ أَمْلَكُ بِأَمْرِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2481]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1421، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 1421، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2482 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ الْجِنُّ يَسْمَعُونَ الْوَحْيَ فَيَسْتَمِعُونَ الْكَلِمَةَ فَيَزِيدُونَ فِيهَا عَشْرًا، فَيَكُونُ مَا سَمِعُوا حَقًّا، وَمَا زَادُوهُ بَاطِلًا، وَكَانَتْ النُّجُومُ لَا يُرْمَى بِهَا قَبْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَدُهُمْ لَا يَأْتِي مَقْعَدَهُ إِلَّا رُمِيَ بِشِهَابٍ يُحْرِقُ مَا أَصَابَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى إِبْلِيسَ، فَقَالَ: مَا هَذَا إِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ , فَبَثَّ جُنُودَهُ، فَإِذَا هُمْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَيْنَ جَبَلَيْ نَخْلَةَ , فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: هَذَا الْحَدَثُ الَّذِي حَدَثَ فِي الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ گزشتہ زمانے میں جنات آسمانی خبریں سن لیا کرتے تھے، وہ ایک بات سن کر اس میں دس اپنی طرف سے لگاتے اور کاہنوں کو پہنچا دیتے، وہ ایک بات جو انہوں نے سنی ہوتی وہ ثابت ہو جاتی اور جو وہ اپنی طرف سے لگاتے تھے وہ غلط ثابت ہو جاتیں، اور اس سے پہلے ان پر ستارے بھی نہیں پھینکے جاتے تھے، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنات میں سے جو بھی اپنے ٹھکانہ پر پہنچتا، اس پر شہاب ثاقب کی برسات شروع ہو جاتی اور وہ جل جاتا، انہوں نے ابلیس سے اس چیز کی شکایت کی، اس نے کہا: اس کی وجہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ کوئی نئی بات ہو گئی ہے، چنانچہ اس نے اپنے لشکروں کو پھیلا دیا، ان میں سے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے بھی گزرے جو جبل نخلہ کے درمیان نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے ابلیس کے پاس آ کر اسے یہ خبر سنائی، اس نے کہا کہ یہ ہے اصل وجہ، جو زمین میں پیداہوئی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2482]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 773، م:449
الحكم: إسناده صحيح، خ: 773، م:449
حدیث نمبر: 2483 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ ، بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعِجْلِيُّ ، وَكَانَتْ لَهُ هَيْئَةٌ، رَأَيْنَاهُ عِنْدَ حَسَنٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ، وَاتَّبَعْنَاكَ , فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ، إِذْ قَالُوا: اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ , قَالَ:" هَاتُوا" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ , قَالَ:" تَنَامُ عَيْنَاهُ، وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذْكِرُ؟ قَالَ:" يَلْتَقِي الْمَاءَانِ، فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ آنَثَتْ" , قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ؟ قَالَ:" كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ أَبِي: قَالَ بَعْضُهُمْ: يَعْنِي الْإِبِلَ، فَحَرَّمَ لُحُومَهَا" , قَالُوا: صَدَقْتَ , قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ:" مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ، بِيَدِهِ أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ، يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ، يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَ اللَّهُ" , قَالُوا: فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي يُسْمَعُ؟ قَالَ:" صَوْتُهُ" , قَالُوا: صَدَقْتَ، إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ وَهِيَ الَّتِي نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا بِهَا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَلَكٌ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ، فَأَخْبِرْنَا مَنْ صَاحِبكَ؟ قَالَ:" جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام" قَالُوا: جِبْرِيلُ ذَاكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْحَرْبِ، وَالْقِتَالِ، وَالْعَذَابِ عَدُوُّنَا، لَوْ قُلْتَ: مِيكَائِيلَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ، وَالنَّبَاتِ، وَالْقَطْرِ، لَكَانَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ سورة البقرة آية 97 , إِلَى آخِرِ الْآيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ کچھ یہودی آئے اور کہنے لگے کہ اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ سے پانچ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، اگر آپ نے ہمیں ان کا جواب دے دیا تو ہم سمجھ جائیں گے کہ آپ واقعی نبی ہیں اور ہم آپ کی اتباع کرنے لگیں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے اس بات پر اسی طرح وعدہ لیا جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا، جب وہ یہ کہہ چکے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، اللہ اس پر وکیل ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اب اپنے سوالات پیش کرو، انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ نبی کی علامت کیا ہوتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔ انہوں نے دوسرا سوال یہ پوچھا کہ یہ بتائیے کہ بچہ مؤنث اور مذکر کس طرح بنتا ہے؟ فرمایا: دو پانی ملتے ہیں، اگر مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آ جائے تو بچہ مذکر ہو جاتا ہے، اور اگر عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جائے تو بچی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے تیسرا سوال پوچھا کہ یہ بتائیے، حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کس چیز کو حرام کیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں عرق النساء نامی مرض کی شکایت تھی، انہوں نے محسوس کیا کہ انہیں اونٹ کا دودھ سب سے زیادہ پسند ہے اس لئے انہوں نے اس کے (دودھ اور) گوشت کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔ وہ کہنے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔ پھر انہوں نے چوتھا سوال یہ پوچھا کہ یہ رعد (بادلوں کی گرج چمک) کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے، جسے بادلوں پر مقرر کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میں لو ہے کا ایک گرز ہوتا ہے جس سے یہ بادلوں کو مارتا ہے اور اللہ نے جہاں لے جانے کا حکم دیا ہوتا ہے انہیں وہاں ہانک کر لے جاتا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ ہم جو آواز سنتے ہیں وہ کہاں سے آتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کی آواز ہوتی ہے۔ انہوں نے اس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کی اور کہنے لگے کہ اب ایک سوال باقی رہ گیا ہے، اگر آپ نے اس کا جواب دے دیا تو ہم آپ کی بیعت کرلیں گے، ہر نبی کے ساتھ ایک فرشتہ ہوتا ہے جو ان کے پاس وحی لے کر آتا ہے، آپ کے پاس کون سا فرشتہ آتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل! وہ کہنے لگے کہ وہی جبرئیل جو جنگ، لڑائی اور سزا لے کر آ تا ہے؟ وہ تو ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کا نام لیتے جو رحمت، نباتات اور بارش لے کر آتا ہے تب بات بن جاتی، اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ . . . . .﴾ [البقرة: 97] » (اے نبی!) آپ کہہ دیجیئے کہ جو جبریل کا دشمن ہو . . . . .۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2483]
حکم دارالسلام
حديث حسن، قصة الرعد منكرة، فقد تفرد بها بكير بن شهاب
الحكم: حديث حسن، قصة الرعد منكرة، فقد تفرد بها بكير بن شهاب
حدیث نمبر: 2484 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ النَّحْرُ، فَذَبَحْنَا الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَعِيرَ عَنْ عَشَرَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ قربانی کا موقع آ گیا، چنانچہ ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے گائے، اور اونٹ کو دس آدمیوں کی طرف سے ذبح کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2484]
حکم دارالسلام
في سنده الحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع، والحسين بن واقد عنده بعض ما ينكر، وقد تفرد برواية حديث ابن عباس هذا
الحكم: في سنده الحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع، والحسين بن واقد عنده بعض ما ينكر، وقد تفرد برواية حديث ابن عباس هذا
حدیث نمبر: 2485 مسند احمد
الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، وَالطَّالَقَانِيُّ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، وَالطَّالَقَانِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي يَلْتَفِتُ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2486 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، رَجُلٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْحَظُ فِي صَلَاتِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَلْوِيَ عُنُقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2486]
حکم دارالسلام
هذا مرسل، رواية عكرمة عن النبى مرسلة
الحكم: هذا مرسل، رواية عكرمة عن النبى مرسلة
حدیث نمبر: 2487 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي رَجَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ، فَمِيتَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7053، م: 1849
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7053، م: 1849
حدیث نمبر: 2488 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ: أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ" فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة البقرة آية 190 حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 191 , ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں رات گزاری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورہ آل عمران کی یہ آیتیں تلاوت فرمائی: « ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ . . . . . سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [آل عمران: 190-191] » تک، پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2488]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 117، م: 256
الحكم: إسناده صحيح، خ: 117، م: 256
حدیث نمبر: 2489 مسند احمد
مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي هَاشِمٍ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، أَبِي هَاشِمٍ ، حَجَّاجٍ ، مَنْصُورٌ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مَنْصُورٌ ، عَوْنٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، شَكَّ مَنْصُورٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" , قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ" , قَالَ: وَقَالَ مَنْصُورٌ : وَحَدَّثَنِي عَوْنٌ ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد فرماتے: «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» اے اللہ! اے ہمارے رب! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2489]
حکم دارالسلام
صحيح، حجاج هو: حجاج بن أرطاة بن دينار، وروايتهما عن سعد بن جبير منقطعة
الحكم: صحيح، حجاج هو: حجاج بن أرطاة بن دينار، وروايتهما عن سعد بن جبير منقطعة
حدیث نمبر: 2490 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2490]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2645، م: 1447
حدیث نمبر: 2491 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قال لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنَةِ حَمْزَةَ , وَذَكَرَ مِنْ جَمَالِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ" , ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا اور ان کے حسن و جمال کا تذکرہ کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ میری رضاعی بھتیجی ہے، پھر فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2491]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولم يسمعه سعيد من على ابن زيد
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف على بن زيد ولم يسمعه سعيد من على ابن زيد
حدیث نمبر: 2492 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَيَقُولُ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ: سَرِفُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِذَلِكَ الْمَاءِ أَعْرَسَ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ حالت احرام میں نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2493 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ، وَفَخِذُهُ خَارِجَةٌ، فَقَالَ:" غَطِّ فَخِذَكَ، فَإِنَّ فَخِذَ الرَّجُلِ مِنْ عَوْرَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک آدمی پر ہوا جس کی ران دکھائی دے رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران کو ڈھکو، کیونکہ مرد کی ران شرمگاہ کا حصہ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2493]
حکم دارالسلام
حسن لشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو يحيى القتات لين الحديث، وروى عنه إسرائيل أحاديث كثيرة مناكير جدا
الحكم: حسن لشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو يحيى القتات لين الحديث، وروى عنه إسرائيل أحاديث كثيرة مناكير جدا
حدیث نمبر: 2494 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ أَخِيرًا: قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ؟ قَالَ: قُلْنَا قِرَاءَةُ زَيْدٍ , قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جَبْرِيلَ كُلَّ عَامٍ مَرَّةً، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، وَكَانَتْ آخِرَ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے پوچھا کہ حتمی قرأت کون سی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی؟ ہم نے عرض کیا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی، فرمایا: نہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قرأت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2494]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر، لين الحديث
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر، لين الحديث
حدیث نمبر: 2495 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ: الم غُلِبَتِ الرُّومُ سورة الروم آية 1 - 2 , قَالَ: غُلِبَتْ وَغَلَبَتْ، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ، لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، فَذَكَرُوهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُمْ سَيَغْلِبُونَ" , قَالَ: فَذَكَرَهُ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا، فَإِنْ ظَهَرْنَا، كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا، وَإِنْ ظَهَرْتُمْ، كَانَ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا , فَجَعَلَ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ، فَلَمْ يَظْهَرُوا، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا جَعَلْتَهَا إِلَى دُونَ، قَالَ: أُرَاهُ قَالَ: الْعَشْرِ؟" , قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ، ثُمَّ ظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدُ، قَالَ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ: الم غُلِبَتِ الرُّومُ إِلَى قَوْلِهِ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ سورة الروم آية 1 - 4 , قَالَ: يَفْرَحُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ سورة الروم آية 5.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما «‏‏‏‏ ﴿الم o غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ » ‏‏‏‏ کو معروف اور مجہول دونوں طرح سے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آ جائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آ جائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کر دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رومی ہی غالب آئیں گے. سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کر دی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آ گئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے، اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آ گئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پانچ سال کی مدت مقرر کر لی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دئیے تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی؟ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دراصل قرآن میں « ﴿بِضْعِ﴾ » کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چنانچہ اس عرصے میں رومی غالب آ گئے اور سورہ روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2495]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2496 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُثَيْمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ذَكْوَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُثَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ذَكْوَانُ حَاجِبُ عَائِشَةَ , أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَائِشَةَ، فَجِئْتُ، وَعِنْدَ رَأْسِهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بِنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ , فَأَكَبَّ عَلَيْهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ وَهِيَ تَمُوتُ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ , فَقَالَ: يَا أُمَّتَاهُ، إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكِ، لِيُسَلِّمْ عَلَيْكِ، وَيُوَدِّعْكِ , فَقَالَتْ: ائْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ , قَالَ: فَأَدْخَلْتُهُ، فَلَمَّا جَلَسَ، قَالَ: أَبْشِرِي , فَقَالَتْ: أَيْضًا! فَقَالَ:" مَا بَيْنَكِ، وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَحِبَّةَ، إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الرُّوحُ مِنَ الْجَسَدِ، كُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُصْبِحَ فِي الْمَنْزِلِ، وَأَصْبَحَ النَّاسُ لَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 , فَكَانَ ذَلِكَ فِي سَبَبِكِ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ، جَاءَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ، فَأَصْبَحَ لَيْسَ لِلَّهِ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ اللَّهِ يُذْكَر فِيهُِ اللَّهُ، إِلَّا يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ , فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے)، اس نے کہا: اماں جان! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آ کر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کر لیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی، اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہو گئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے حضرت جبرئیل علیہ السلام لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں: اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، واللہ! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2496]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2497 مسند احمد
سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، رَجُلٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: قَالَ لَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ :" إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي، وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہو جائے، اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے طے ہو چکا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2497]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ليث بن أبى سليم ضعيف، وشيخه مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، ليث بن أبى سليم ضعيف، وشيخه مجهول