بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 43 از 86
حدیث نمبر: 2678 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، هُشَيْمٌ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، بَرَكَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ الْمُجَاشِعِيِّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ بَرَكَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ الْمُجَاشِعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ أَكْلَ شَيْءٍ، حَرَّمَ ثَمَنَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کردیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2678]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2679 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ لِي أَبِي: أَيْ بُنَيَّ، أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ , قَالَ: فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبِي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ: كَذَا وَكَذَا، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ، فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" فَإِنَّ ذَاكَ جِبْرِيلُ، وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھے کہنے لگے: بیٹا! تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آگئے، والد صاحب کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: وہ جبرئیل تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2679]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2680 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِيًا أَوْ سَبْعًا يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2680]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2353
الحكم: إسناده صحيح، م: 2353
حدیث نمبر: 2681 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، دُوَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ ثَوْبَانَ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ، الْعَيْنُ حَقٌّ، العَينُ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نظر کا لگ جانا برحق ہے، اور یہ حلق کرانے والے کو بھی نیچے اتار لیتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2681]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، دويد البصري لين الحديث وإسماعيل مجهول
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، دويد البصري لين الحديث وإسماعيل مجهول
حدیث نمبر: 2682 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین رفیق سفر چار آدمی ہوتے ہیں، بہترین سریہ چار سو افراد پر مشتمل ہوتا ہے، بہترین لشکر چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو سکتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2682]
حکم دارالسلام
وصله شاذ والصواب أنه مرسل
الحكم: وصله شاذ والصواب أنه مرسل
حدیث نمبر: 2683 مسند احمد
يُونُسُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ مُؤْمِنًا؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا؟ قَالَ: ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ، وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ؟! وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَقْتُولَ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ، أَوْ قَالَ بِشِمَالِهِ، آخِذًا صَاحِبَهُ بِيَدِهِ الْأُخْرَى، تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا، فِي قُبُلِ عَرْشِ الرَّحْمَنِ، فَيَقُولُ: رَبِّ , سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابن عباس! اس آدمی کے متعلق بتائیے جس نے کسی مسلمان کو عمدا قتل کیا ہو؟ انہوں نے فرمایا: اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہوگی، اور اللہ نے اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، سائل نے پوچھا کہ اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا؟ فرمایا: تم پر افسوس ہے، اسے کہاں توبہ کی توفیق ملے گی؟ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے ایک ہاتھ سے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر کو، اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا، اور وہ عرش کے سامنے آ کر کہے گا کہ پروردگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا؟ فائدہ: یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے ہے، جمہور امت اس بات پر متفق ہیں کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے نجات پا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2683]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المجبر التيمي مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، المجبر التيمي مختلف فيه
حدیث نمبر: 2684 مسند احمد
يُونُسُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، قَالَ: دَعَانَا رَجُلٌ، فَأَتَى بِخِوَانٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا، قَالَ: وَذَاكَ عِشَاءً، فَآكِلٌ وَتَارِكٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَأَكْثَرَ فِي ذَلِكَ جُلَسَاؤُهُ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ" , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْس ما قُلْتُمْ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَامْرَأَةٌ، فَأُتِيَ بِخِوَانٍ عَلَيْهِ خُبْزٌ، وَلَحْمُ ضَبٍّ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ، قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: إِنَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَحْمُ ضَبٍّ , فَكَفَّ يَدَهُ، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ، وَلَكِنْ كُلُوا" , قَالَ: فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر تیرہ عدد گوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، جب صبح ہوئی تو ہم لوگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے، میں نے ان سے گوہ کے متعلق دریافت کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کر دیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں سیدنا فضل بن عباس، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اور ایک خاتون بھی موجود تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھا لو۔ چنانچہ سیدنا فضل، خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اور اس خاتون نے اسے کھا لیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں کھاتے، میں بھی نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1948
الحكم: إسناده صحيح، م: 1948
حدیث نمبر: 2685 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ؟ وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ؟ وَعَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَشْهَدَانِ الْغَنِيمَةَ؟ وَعَنْ قَتْلِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَيْءٍ يَقَعُ فِيهِ، مَا أَجَبْتُهُ , وَكَتَبَ إِلَيْهِ، إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ هُوَ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَرَاهَا لِقَرَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا، وَعَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ؟ قَالَ: إِذَا احْتَلَمَ أَوْ أُونِسَ مِنْهُ خَيْرٌ، وَعَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَشْهَدَانِ الْغَنِيمَةَ؟ فَلَا شَيْءَ لَهُمَا، وَلَكِنَّهُمَا يُحْذَيَانِ وَيُعْطَيَانِ، وَعَنْ قَتْلِ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں: ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خط لکھ کر پوچھا کہ قریبی رشتہ دار کون ہیں جن کا حصہ ہے؟ یتیم سے یتیمی کا لفظ کب دور ہوتا ہے؟ اگر عورت اور غلام تقسیم غنیمت کے موقع پر موجود ہوں تو کیا حکم ہے؟ اور مشرکین کے بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: واللہ! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہو سکتا ہے تو میں کبھی بھی جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا؟ یاد رکھئے! جب وہ بالغ ہو جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہو جائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہو گئی۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔ نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے، البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2685]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1812
الحكم: إسناده صحيح، م: 1812
حدیث نمبر: 2686 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ، وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ لَقَدْ قَدِمَ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا , فَجَلَسَ الْمُشْرِكُونَ مِنَ النَّاحِيَةِ الَّتِي تَلِي الْحِجْرَ، فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَى مَا قَالُوا، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ، لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ، قَالَوا: فَرَمَلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، حَيْثُ لَا يَرَاهُمْ الْمُشْرِكُونَ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَمْ يَمْنَعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا، إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ الْمُشْرِكُون: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ؟! هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہو چکے تھے، مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے؟ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2686]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
حدیث نمبر: 2687 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِبَةً، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا، قَالَ:" رَضِيتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ: فَزَادَهُ، قَالَ:" رَضِيتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ: فَزَادَهُ، قَالَ:" رَضِيتَ" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جوابا اسے بھی کچھ عطا فرمایا اور اس سے پوچھا کہ خوش ہو؟ اس نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کچھ اور بھی عطا فرمایا اور پوچھا: اب تو خوش ہو، اس طرح تین مرتبہ ہوا اور وہ تیسری مرتبہ جا کر خوش ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے دیکھ کر میں نے سوچا کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں، سوائے اس کے جو قریشی ہو، یا انصاری ہو، یا ثقفی ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2688 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ" اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ، فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا، وَمَشَوْا أَرْبَعًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ جعرانہ سے عمرہ کیا، اور طواف کے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں اپنی عام رفتار کے مطابق چلتے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2688]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2689 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ، أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ، لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت یحییٰ علیہ السلام کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2689]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيدولين يوسف بن مهران
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيدولين يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2690 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ: فِي رِجْلَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2690]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 212
الحكم: إسناده صحيح، م: 212
حدیث نمبر: 2691 مسند احمد
شَاذَانُ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ، قَالَ أُنَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا؟ فَأُنْزِلَتْ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 , قَالَ: وَلَمَّا حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ، قَالَ أُنَاسٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأُنْزِلَتْ: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہو گیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے؟ اس پر یہ آیت نزل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [المائدة: 93] » ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھا لیا (یا پی لیا)۔ اور جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة: 143] » اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2691]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2692 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُ عَنْهُ الْأَرْضُ، وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، وَلَا فَخْرَ، آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي , قَالَ: وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ، حَتَّى يَقُولَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ، فَيَشْفَعَ لَنَا إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ , أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ , فَيَأْتُونَ نُوحًا، فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَدْ دَعَوْتُ دَعْوَةً غَرَّقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام , قَالَ: فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَدْ كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ، قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 , وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 , وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ: إِنَّهَا أُخْتِي، وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ , فَيَأْتُونَ مُوسَى , فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى، رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ، فَيَأْتُونَ عِيسَى، فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى، أَنْتَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إني قَدْ اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي , ثُمَّ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ قَدْ خُتِمَ عَلَيْهِ، أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي الْوِعَاءِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ؟ فَيَقُولُونَ: لَا , فَيَقُولُ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَاتَمَ النَّبِيِّينَ، قَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ، وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَيَأْتُونِي، فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا , فَأَقُولُ: نَعَمْ أَنَا لَهَا، حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ، فَنَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ، وَتَقُولُ الْأُمَمُ: كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا , قَالَ: ثُمَّ آتِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ، فَأَقْرَعُ الْبَابَ، فَيُقَالُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُولُ مُحَمَّدٌ، فَيُفْتَحُ لِي، فَأَرَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، وَهُوَ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، وَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي، فَيُقَالُ لي: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , قَالَ: فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فَيُقَالُ لِي: أَخْرِجْ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا , فَأُخْرِجُهُمْ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَخِرُّ سَاجِدًا، وَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي، وَلَا يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي، فَيُقَالُ لِي: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ , فَأَرْفَعُ رَأْسِي، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي، أُمَّتِي , فَيُقَالُ: أَخْرِجْ مَنْ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا , فَأُخْرِجُهُمْ" , قَالَ: وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ هَذَا أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونضرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کی کم از کم ایک دعا ایسی ضرور تھی جو انہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کر لیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلتے ہیں، وہ ابوالبشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چنانچہ سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا، اپنی جنت میں ٹھہرایا، اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کر دیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء کی جڑ ہیں۔ چنانچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کر دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم! آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد واللہ! دین ہی تھا (ایک تو اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے، اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا)، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسیٰ! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا، آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کر دیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چنانچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر دیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں تو اس کام کا اہل نہیں ہوں، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ لوگ کہیں گے: نہیں، اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مہر ہیں، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہو چکے ہیں (لہذا تم ان کے پاس جاؤ)۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائیں گے: ہاں! میں اس کا اہل ہوں، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور ان کی امت کہاں ہے؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں۔ بہرحال! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) چنانچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کر سکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد! سر تو اٹھایئے، آپ جو مانگیں گے آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار! میری امت، میری امت۔ ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال (راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال (پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2692]
حکم دارالسلام
حسن لغيره دون قول عيسى عليه السلام : إني اخذ إلها من دون الله، فإنه مخالف لما فى الصحيح من أن عيسى لم يذكر ذنب. وقوله : أنا أول من تنشق عنه الأض سيرد بإسناد صحيح برقم : (11276). وإسناد هذا الحديث ضعيف، لضعف على بن زيد
الحكم: حسن لغيره دون قول عيسى عليه السلام : إني اخذ إلها من دون الله، فإنه مخالف لما فى الصحيح من أن عيسى لم يذكر ذنب. وقوله : أنا أول من تنشق عنه الأض سيرد بإسناد صحيح برقم : (11276). وإسناد هذا الحديث ضعيف
حدیث نمبر: 2693 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، غير أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوَّلِ:" مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ مِنَ الْإِيمَانِ" , وَالثَّانِيَةِ:" بُرَّةٍ" , وَالثَّالِثَةِ:" ذَرَّةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ یہاں پہلی مرتبہ میں ایک جو کے برابر ایمان کا، دوسری مرتبہ ایک گندم کے دانے کے برابر ایمان کا اور تیسری مرتبہ ایک ذرہ کے برابر ایمان کا ذکر ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2693]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. راجع ما قبله. وهذا الحديث من مسند أنس بن مسند الإمام أحمد بن حنبل كله مالك
الحكم: إسناده صحيح. راجع ما قبله. وهذا الحديث من مسند أنس بن مسند الإمام أحمد بن حنبل كله مالك
حدیث نمبر: 2694 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ، فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطا کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2694]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد بن جدعان ولين يوسف ابن مهران
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد بن جدعان ولين يوسف ابن مهران
حدیث نمبر: 2695 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَوَقَعَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَاذِبٌ، إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَوْ شَهَادَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، لہذا اسے وہ حق ادا کرنے کا حکم دیجئے اور اس کی قسم کا کفارہ لا الہ الا اللہ کی معرفت اور شہادت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2695]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لاختلاط عطاء بن السائب ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: إسناده ضعيف، لاختلاط عطاء بن السائب ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 2696 مسند احمد
حَسَنٌ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ : أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس سال تک مکہ مکرمہ میں رہے جس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا رہا، اور مدینہ منورہ میں بھی دس سال رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2696]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4464
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4464
حدیث نمبر: 2697 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَمُوسَى، وَإِبْرَاهِيمَ، فَأَمَّا عِيسَى، فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ، وَأَمَّا مُوسَى فَآدم جَسِيمٌ" , قَالُوا لَهُ: فَإِبْرَاهِيمُ؟ قَالَ:" انْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ" , يَعْنِي: نَفْسَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے حضرت عیسی، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کی زیارت کی ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو سرخ وسفید رنگ کے، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینے والے آدمی ہیں، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مضبوط اور صحت مند جسم کے مالک ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کیسے ہیں؟ فرمایا: اپنے پیغمبر کو دیکھ لو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2697]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3438، م: 165 ، 166
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3438، م: 165 ، 166