يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا وَهَبَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِبَةً، فَأَثَابَهُ عَلَيْهَا، قَالَ:" رَضِيتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ: فَزَادَهُ، قَالَ:" رَضِيتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ: فَزَادَهُ، قَالَ:" رَضِيتَ" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَّهِبَ هِبَةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جوابا اسے بھی کچھ عطا فرمایا اور اس سے پوچھا کہ ”خوش ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کچھ اور بھی عطا فرمایا اور پوچھا: ”اب تو خوش ہو“، اس طرح تین مرتبہ ہوا اور وہ تیسری مرتبہ جا کر خوش ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے دیکھ کر میں نے سوچا کہ آئندہ کسی شخص سے ہدیہ قبول نہ کروں، سوائے اس کے جو قریشی ہو، یا انصاری ہو، یا ثقفی ہو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2687]
الحكم: إسناده صحيح