بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2684
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2684
حدیث نمبر: 2684 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يُونُسُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، قَالَ: دَعَانَا رَجُلٌ، فَأَتَى بِخِوَانٍ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا، قَالَ: وَذَاكَ عِشَاءً، فَآكِلٌ وَتَارِكٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ، فَأَكْثَرَ فِي ذَلِكَ جُلَسَاؤُهُ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ" , قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْس ما قُلْتُمْ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ، وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَامْرَأَةٌ، فَأُتِيَ بِخِوَانٍ عَلَيْهِ خُبْزٌ، وَلَحْمُ ضَبٍّ، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ، قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: إِنَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَحْمُ ضَبٍّ , فَكَفَّ يَدَهُ، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ، وَلَكِنْ كُلُوا" , قَالَ: فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْمَرْأَةُ، قَالَ: وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِنْ طَعَامٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر تیرہ عدد گوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، جب صبح ہوئی تو ہم لوگ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے، میں نے ان سے گوہ کے متعلق دریافت کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کر دیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں سیدنا فضل بن عباس، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اور ایک خاتون بھی موجود تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھا لو۔ چنانچہ سیدنا فضل، خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اور اس خاتون نے اسے کھا لیا اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں کھاتے، میں بھی نہیں کھاتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2684]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1948
الحكم: إسناده صحيح، م: 1948
← پچھلی حدیث (2683) باب پر واپس اگلی حدیث (2685) →