بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 12 از 86
حدیث نمبر: 2058 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، جَابِرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ أَوْ قَالَ: فَرْسَخَيْنِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ سے دو یا چار فرسخ کے فاصلے پر واقع ایک بستی میں عاشورہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ پیغام بھجوایا کہ جو شخص صبح سے اب تک کچھ کھا پی چکا ہے، وہ دن کے بقیہ حصے میں کچھ نہ کھائے، اور جس نے اب تک کچھ کھایا نہیں، اسے چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو مکمل کر لے (یعنی مغرب تک کھانے پینے سے رکا رہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2058]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع شك فى شيخه وجابر الجعفي ضعيف.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع شك فى شيخه وجابر الجعفي ضعيف.
حدیث نمبر: 2059 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتْ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا أَسْلَمَتْ مَعِي فَرَدَّهَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا، کچھ عرصے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے میرے ساتھ ہی اسلام قبول کر لیا تھا (کسی مصلحت کی وجہ سے اسے مخفی رکھا تھا)، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس کی بیوی قرار دے کر اس ہی کے پاس واپس لوٹا دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2059]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
الحكم: إسناده ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
حدیث نمبر: 2060 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي جَهْضَمٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں وضو اچھی طرح اور مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2061 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى عَلَى بِسَاطٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بستر پر نماز پڑھی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2061]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، زمعة بن صالح ضعيف.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، زمعة بن صالح ضعيف.
حدیث نمبر: 2062 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ لِصِغَرِي، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَصَلَّى عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَطَبَ لَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عابس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عید کے موقع پر شریک ہوئے ہیں؟ فرمایا: ہاں! اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ میرا تعلق نہ ہوتا تو اپنے بچپن کی وجہ سے میں اس موقع پر کبھی موجود نہ ہوتا، اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور دار کثیر بن الصلت کے قریب دو رکعت نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس میں اذان یا اقامت کا کچھ ذکر نہیں کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2062]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2063 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ أَرْضٍ مِنْ أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ وَصَفٌّ خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً، ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام ذی قرد تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہو گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2063]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 2064 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسًا، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَطَاوُسٌ يَسْمَعُ: حَدَّثَنَا طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَكَمَا تُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، فَصَلِّ فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا" , قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: وَصَلِّهَا فِي السَّفَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر اور حضر کی نماز کی رکعتیں مقرر فرما دی ہیں، چنانچہ ہم حضر میں اس سے پہلے اور بعد میں بھی نماز پڑھتے تھے، اس لئے تم سفر میں بھی پہلے اور بعد میں نماز پڑھ سکتے ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2064]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 2065 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، جَابِرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَبِالْوَتْرِ، وَلَمْ يُكْتَبْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے چاشت کی دو رکعتوں اور وتر کا حکم دیا گیا ہے لیکن انہیں امت پر فرض نہیں کیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2065]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، جابر الجعفي ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف، جابر الجعفي ضعيف.
حدیث نمبر: 2066 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب « ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ » کی تلاوت فرماتے تو یہ بھی کہتے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2066]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفاً.
الحكم: صحيح موقوفاً.
حدیث نمبر: 2067 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ، قَالَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ، أَيُّ وَادٍ هَذَا؟" , قَالَ: وَادِي عُسْفَانَ، قَالَ:" لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمْ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمْ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر وادی عسفان پر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابوبکر! یہ کون سی وادی ہے؟ انہوں نے عرض کیا: وادی عسفان، فرمایا: یہاں سے حضرت ہود اور حضرت صالح علیہما السلام ایسی سرخ جوان اونٹنیوں پر ہو کر گزرے ہیں جن کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی، ان کے تہبند عباء تھے اور ان کی چادریں چیتے کی کھالیں تھیں اور وہ تلبیہ کہتے ہوئے بیت اللہ کے حج کے لئے جارہے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2067]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، زمعة ضعيف وسلمة بن وهرام مختلف فيه.
الحكم: إسناده ضعيف، زمعة ضعيف وسلمة بن وهرام مختلف فيه.
حدیث نمبر: 2068 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُنْبَذُ لَهُ لَيْلَةَ الْخَمِيسِ، فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: وَأُرَاهُ قَالَ: وَيَوْمَ السَّبْتِ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَدَمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے جمعرات سے پہلے والی رات کو نبیذ بنائی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے جمعرات کے دن، جمعہ کے دن اور ہفتہ کی شام تک نوش فرماتے، اس کے بعد اگر عصر تک کچھ بچ جاتی تو کسی دوسرے کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2068]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2004.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2004.
حدیث نمبر: 2069 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2069]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لضعف عبد الأعلى الثعلبي.
الحكم: إسناده ضعيف، لضعف عبد الأعلى الثعلبي.
حدیث نمبر: 2070 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284، قَالَ: دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا"، فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 285 - 286، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: آدَمُ هَذَا هُوَ أَبُو يَحْيَى بْنُ آدَمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ﴾ [البقرة: 284] » تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ تم سے ان سب کا حساب لے گا۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر قلبی طور پر ایسی بےچینی محسوس ہوئی جو اس سے قبل نہیں ہوئی تھی (کہ دلی ارادہ کا بھی حساب کتاب ہوگا تو کیا بنے گا؟) لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم یہی کہو: ہم نے سن لیا، ہم نے اطاعت کی اور سر تسلیم خم کر دیا، چنانچہ اللہ نے ان کے دلوں میں پہلے سے موجود ایمان کو مزید راسخ کر دیا اور سورہ بقرہ کی یہ اختتامی آیات نازل فرمائیں: « ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ o لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾ [البقرة: 285-286] » جن کا ترجمہ یہ ہے: پیغمبر اس چیز پر ایمان لے آئے جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئی، اور مومنین بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لے آئے اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پیغمبر میں تفریق روا نہیں رکھتے، اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی، پروردگار! ہمیں معاف فرما، اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، انسان کو انہی چیزوں کا فائدہ ہوگا جو اس نے کمائیں، اور انہیں چیزوں کا نقصان ہوگا جو اس نے کمائیں، پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو اس پر ہمارا مؤاخذہ نہ فرمایا، اور ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، پروردگار! ہم پر اس چیز کا بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے، ہم سے درگزر فرما، ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا آقا ہے، اس لئے تو ہی کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2070]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 126.
الحكم: إسناده صحيح، م: 126.
حدیث نمبر: 2071 مسند احمد
وَكِيعٌ ، زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ" إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ تم ان لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کا پیغمبر ہوں، اگر وہ تمہاری اس بات پر اطاعت کریں تو انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ اس بات میں بھی تمہاری اطاعت کر لیں تو انہیں یہ بتانا کہ اللہ نے ان کے مال پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان ہی کے غرباء میں تقسیم کر دی جائے گی، جب وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو ان کے عمدہ مال چھانٹی کرنے سے اپنے آپ کو بچانا اور مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2071]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1395، م: 19 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1395، م: 19 .
حدیث نمبر: 2072 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2072]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 157.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 157.
حدیث نمبر: 2073 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2073]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شعبة مولى ابن عباس سيء الحفظ.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شعبة مولى ابن عباس سيء الحفظ.
حدیث نمبر: 2074 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ , عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسِمَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیاہ عمامہ - جو تیل سے چکنا ہوگیا تھا - باندھ رکھا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2074]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 927.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 927.
حدیث نمبر: 2075 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَصَفْوَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَصَفْوَانُ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُدِيمُوا إِلَى الْمَجْذُومِينَ النَّظَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل نہ دیکھا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2075]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لمحمد بن عبدالله بن عمرو الديباج وفي هذا الحديث اضطراب.
الحكم: إسناده ضعيف، لمحمد بن عبدالله بن عمرو الديباج وفي هذا الحديث اضطراب.
حدیث نمبر: 2076 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنَ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فِي الْوَصِيَّةِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کاش! لوگ وصیت کرنے میں تہائی سے کمی کر کے چوتھائی کو اختیار کر لیں، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تہائی کو بھی زیادہ قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2076]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2743، م: 1629.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2743، م: 1629.
حدیث نمبر: 2077 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، فِطْرٌ ، عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقَ قَوْمِي وَكَذَبُوا،" قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، وَلَكِنَّهُ قَدِمَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَتَحَدَّثُوا أَنَّ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ هَزْلًا وَجَهْدًا وَشِدَّةً، فَأَمَرَ بِهِمْ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ لِيُرِيَهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُصِبْهُمْ جَهْدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا: اس میں آدھا سچ ہے اور آدھا جھوٹ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو دکھا سکیں کہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.