وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، جَابِرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ أَوْ قَالَ: فَرْسَخَيْنِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ سے دو یا چار فرسخ کے فاصلے پر واقع ایک بستی میں عاشورہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ پیغام بھجوایا کہ ”جو شخص صبح سے اب تک کچھ کھا پی چکا ہے، وہ دن کے بقیہ حصے میں کچھ نہ کھائے، اور جس نے اب تک کچھ کھایا نہیں، اسے چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو مکمل کر لے (یعنی مغرب تک کھانے پینے سے رکا رہے)۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2058]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع شك فى شيخه وجابر الجعفي ضعيف.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وكيع شك فى شيخه وجابر الجعفي ضعيف.