وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسًا، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ وَطَاوُسٌ يَسْمَعُ: حَدَّثَنَا طَاوُسٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَكَمَا تُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، فَصَلِّ فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا" , قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: وَصَلِّهَا فِي السَّفَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر اور حضر کی نماز کی رکعتیں مقرر فرما دی ہیں، چنانچہ ہم حضر میں اس سے پہلے اور بعد میں بھی نماز پڑھتے تھے، اس لئے تم سفر میں بھی پہلے اور بعد میں نماز پڑھ سکتے ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2064]
الحكم: إسناده حسن.