بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 51 از 86
حدیث نمبر: 2838 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ، كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" قُولُوا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے، اور فرماتے تھے: یوں کہا کرو: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ» اے اللہ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2838]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 590
الحكم: إسناده صحيح، م: 590
حدیث نمبر: 2839 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ لَهَا، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا؟ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ، فَيَذْبَحَهُنَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے، میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2839]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب أوهام كثيرة، ثم هو لم يسمع من ابن عباس، وابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب أوهام كثيرة، ثم هو لم يسمع من ابن عباس، وابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 2840 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ سِحْرٍ، مَا زَادَ زَادَ، وَمَا زَادَ زَادَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے، جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اسی قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2840]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2841 مسند احمد
رَوْحٌ ، الثَّوْرِيُّ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَلَى حُمُرَاتِنَا، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا بِيَدِهِ، وَيَقُولُ:" أَيْ بَنِيَّ، لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أَخَالُ أَحَدًا يَرْمِي الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کرا کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا: پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2841]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، الحسن العرني لم يسمع من ابن عباس
الحكم: حديث صحيح، الحسن العرني لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2842 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كَذَا، قَالَ رَوْحٌ: عَاصِمٌ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ:" قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِسُنَّةٍ، كَانَ النَّاسُ لَا يُصْرفُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُدْفَعُونَ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْتَمِعُوا، وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کی زیارت بھی کر لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک نہ پہنچیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2842]
حکم دارالسلام
حديث حسن، م: 1264
الحكم: حديث حسن، م: 1264
حدیث نمبر: 2843 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2843]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا
الحكم: صحيح موقوفا
حدیث نمبر: 2844 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2844]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قال يحيى بن معين : عمر بن عطاء الذى يروي عنه ابن جريج يحدث عن عكرمة ليس هو بشيء
الحكم: إسناده ضعيف، قال يحيى بن معين : عمر بن عطاء الذى يروي عنه ابن جريج يحدث عن عكرمة ليس هو بشيء
حدیث نمبر: 2845 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ حَسَنٌ: عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ حَسَنٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ . ح حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِخَدِيجَةَ... فَذَكَرَ عَفَّانُ الْحَدِيثَ، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنٌ فِي حَدِيثِهِمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِخَدِيجَةَ:" إِنِّي أَرَى ضَوْءًا، وَأَسْمَعُ صَوْتًا، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ". قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ. ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ يَكُ صَادِقًا، فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيُّ، فَسَأُعَزِّزُهُ، وَأَنْصُرُهُ، وَأُومِنُ بِهِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مختلف اسانید سے - جن میں سے بعض میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے اور بعض میں نہیں - مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلی وحی نازل ہونے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: مجھے روشنی دکھائی دیتی ہے اور کوئی آواز سنائی دیتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے جنون نہ ہو جائے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے عبداللہ کے صاحبزادہ گرامی قدر! اللہ آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور یہ بات ان سے ذکر کی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کے پاس آنے والا فرشتہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اگر وہ میری زندگی میں مبعوث ہوگئے تو میں انہیں تقویت پہنچاؤں گا، ان کی مدد کروں گا اور ان پر ایمان لے آؤں گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2845]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3، م : 190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3، م : 190
حدیث نمبر: 2846 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَالنُّورَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِيَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2846]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2353
الحكم: إسناده صحيح، م: 2353
حدیث نمبر: 2847 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، قَالَ عَفَّانُ: وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ عَنِ الْعَبَّاسِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، قَالَ عَفَّانُ: فَقَالَ: أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَكَ رَجُلًا تُنَاجِيهِ. قَالَ:" هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ، وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ" حَدَّثَنَا عَفَّانُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھ سے کہنے لگے: بیٹا! تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آ گئے، والد صاحب کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: وہ جبرئیل امین تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2847]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2848 مسند احمد
عَبْد اللَّهِ ، هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2848]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2849 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِى عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِى عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ذَكَرَ خَدِيجَةَ، وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهُ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي، فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ. فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَخَلَعَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ، نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، فَقَالَ: مَا شَأْنِي، مَا هَذَا؟ قَالَتْ: زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ: أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ! لَا، لَعَمْرِي. فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: أَمَا تَسْتَحِي! تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ، تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ فرمایا: دراصل سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد ان کی شادی کرنا چاہتے تھے، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور اس وقت کے رواج کے مطابق شراب کا بھی انتظام کیا، انہوں نے اس دعوت میں اپنے والد اور قریش کے چند لوگوں کو بلا رکھا تھا، ان لوگوں نے کھایا پیا اور شراب کے نشے میں دھت ہوگئے۔ یہ دیکھ کر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد سے کہا کہ محمد بن عبداللہ میرے پاس نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں، اس لئے آپ ان سے میرا نکاح کرا دیجئے، انہوں نے نکاح کرا دیا، اس کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد کو خلوق نامی خوشبو لگائی اور انہیں ایک حلہ پہنا دیا جو اس وقت کے رواج کے مطابق تھا۔ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کا نشہ اترا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے جسم پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی ہے اور ان کے جسم پر ایک حلہ ہے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ یہ سب کیا ہے؟ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ نے خود ہی تو محمد بن عبداللہ سے میرا نکاح کر دیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں ابوطالب کے یتیم بھتیجے سے تمہارا نکاح کروں گا؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قریش کی نظروں میں اپنے آپ کو بیوقوف بناتے ہوئے اور لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے کہ آپ نشے میں تھے، آپ کو شرم نہ آئے گی؟ اور وہ یہ بات مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2849]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، فقد شك حماد بن سلمة فى وصله ، ثم إن حماد بن سلمة قد دلسه
الحكم: إسناده ضعيف، فقد شك حماد بن سلمة فى وصله ، ثم إن حماد بن سلمة قد دلسه
حدیث نمبر: 2850 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ... فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2850]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2851 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا؟ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ، فَيَذْبَحَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے، میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2851]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب أوهام كثيرة، ثم هو لم يسمع من ابن عباس شيئا ، وابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب أوهام كثيرة، ثم هو لم يسمع من ابن عباس شيئا ، وابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 2852 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، قَالَ:" هُوَ أَعْوَرُ هِجَانٌ، كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ، أَشْبَهُ رِجَالِكُمْ بِهِ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ، فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ، فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کے متعلق فرمایا: وہ کانا ہوگا، سفید رنگ کا ہوگا، کھلتا ہوا ہوگا، اس کا سر سانپ کی طرح محسوس ہوگا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبدالعزی بن قطن کے مشابہہ ہوگا، اگر ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو تم یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2852]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، سماك بن حرب فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: صحيح لغيره، سماك بن حرب فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2853 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، طَاوُسًا ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي" الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ؟، فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ. قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرِّجْلِ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما (کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا اس طرح بیٹھناجائز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، ہم نے عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک آدمی کا گنوار پن ہے، انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 536
الحكم: إسناده صحيح، م: 536
حدیث نمبر: 2854 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَتَحَرَّى يَوْمًا كَانَ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ، إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، أَوْ شَهْرَ رَمَضَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2854]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2006، : م: 1132
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2006، : م: 1132
حدیث نمبر: 2855 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، طَاوُسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَجْثُو عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ، فَقُلْتُ: هَذَا يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهُ مِنَ الْجَفَاءِ، قَالَ: هُوَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما (کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ عرض کیا کہ لوگ تو اسے گنوار پن سمجھتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2855]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ وقد توبع
حدیث نمبر: 2856 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ حَرِيرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2856]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2857 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، خُصَيْفٌ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابن عباس، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2857]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح