مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا؟ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ، فَيَذْبَحَهُنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے، میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2851]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب أوهام كثيرة، ثم هو لم يسمع من ابن عباس شيئا ، وابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه
الحكم: إسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب أوهام كثيرة، ثم هو لم يسمع من ابن عباس شيئا ، وابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه