بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2842
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2842
حدیث نمبر: 2842 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كَذَا، قَالَ رَوْحٌ: عَاصِمٌ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ:" قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِسُنَّةٍ، كَانَ النَّاسُ لَا يُصْرفُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُدْفَعُونَ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْتَمِعُوا، وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کی زیارت بھی کر لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک نہ پہنچیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2842]
حکم دارالسلام
حديث حسن، م: 1264
الحكم: حديث حسن، م: 1264
← پچھلی حدیث (2841) باب پر واپس اگلی حدیث (2843) →