مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، طَاوُسًا ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي" الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ؟، فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ. قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرِّجْلِ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما (کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا اس طرح بیٹھناجائز ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، ہم نے عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک آدمی کا گنوار پن ہے، انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2853]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 536
الحكم: إسناده صحيح، م: 536