أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، قَالَ عَفَّانُ: وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ عَنِ الْعَبَّاسِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، قَالَ عَفَّانُ: فَقَالَ: أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَكَ رَجُلًا تُنَاجِيهِ. قَالَ:" هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ، وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ" حَدَّثَنَا عَفَّانُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھ سے کہنے لگے: بیٹا! تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس واپس آ گئے، والد صاحب کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”وہ جبرئیل امین تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا تھا۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2847]
الحكم: إسناده صحيح