بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 52 از 86
حدیث نمبر: 2858 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ، وَيَزِيدُنِي، فَانْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ". قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ، وَلَيْسَ يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: مجھے جبرئیل علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔ زہری نے کہا کہ وہ سات حرف کا مال اور مطلب ایک ہی ہوتا ہے کہ کسی حلال و حرام میں ان سے اختلاف نہیں پڑتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3219، م: 819
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3219، م: 819
حدیث نمبر: 2859 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں، اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2859]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2860 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَمَا تَرَكَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2860]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1610
الحكم: إسناده صحيح، م: 1610
حدیث نمبر: 2861 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ، وَبُرْدٍ أَحْمَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2861]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلي سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبى ليلي سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 2862 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ"، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهُوَ الْحَقْلُ، وهو بلسان الأنصار المحاقلة.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2862]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1550
الحكم: إسناده صحيح، م: 1550
حدیث نمبر: 2863 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حتى مات، وَأَبُو بَكْرٍ حتى مات، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ كَذَلِكَ، وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا بھی وصال ہو گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2863]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 2864 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2864]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2865 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، جَابِرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا ضَرَرَ وَلَا إِضِرَارَ، وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ، وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام میں نقصان اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی کوئی گنجائش نہیں، انسان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے بھائی کی دیوار پر لکڑی رکھے، اور غیر آباد راستہ سات گز رکھا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2865]
حکم دارالسلام
حسن، جابر بن يزيد الجعفي ضعيف، وقد توبع
الحكم: حسن، جابر بن يزيد الجعفي ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 2866 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ، فَلْيَفْعَلْ". قَالَ: فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ، مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ، أَوْ أَشْرَبَ اللَّبَنَ، أَوْ الْمَاءَ. قُلْتُ: فَعَلَامَ يُؤَوَّلُ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضَّحَاءُ، فَيَقُولُونَ: نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطا رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عید الفطر کے دن اگر ممکن ہو کہ کچھ کھا پی کر نماز کے لئے نکلو تو ایسا ہی کیا کرو، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب سے یہ بات سنی ہے، اس وقت سے میں نے صبح نکلنے سے پہلے کچھ کھانے پینے کا عمل ترک نہیں کیا، خواہ چپاتی روٹی کا ایک ٹکڑا کھاؤں، یا دودھ پی لوں، یا پانی پی لوں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ تو عطا نے جواب دیا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہوگا، اور فرمایا کہ لوگ نماز عید کے لئے اس وقت نکلتے تھے جب روشنی خوب پھیل جاتی تھی، اور وہ کہتے تھے کہ ہمیں پہلے ہی کچھ کھا پی لینا چاہئے تاکہ نماز میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2867 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، إِسْمَاعِيلَ هُوَ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ ، فُضَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ هُوَ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ ، عَنْ فُضَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ يَعْنِي الْفَرِيضَةَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حج فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو، کیونکہ تم میں سے کسی کو پتہ نہیں ہے کہ بعد میں اسے کیا ضروریات اور عوارض لاحق ہو جائیں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2867]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، إسماعيل بن خليفة العبسي سيئ الحفظ ، وقد توبع
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، إسماعيل بن خليفة العبسي سيئ الحفظ ، وقد توبع
حدیث نمبر: 2868 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ أَرَادُوا دُخُولَ مَكَّةَ فِي عُمْرَتِهِ، بَعْدَ الْحُدَيْبِيَةِ:" إِنَّ قَوْمَكُمْ غَدًا سَيَرَوْنَكُمْ، فَلْيَرَوْكُمْ جُلْدًا". فَلَمَّا دَخَلُوا الْمَسْجِدَ اسْتَلَمُوا الرُّكْنَ، ثُمَّ رَمَلُوا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ، حَتَّى إِذَا بَلَغُوا إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِي، مَشَوْا إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَشَى الْأَرْبَعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمرے کے ارادے سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے لگے تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگ کل تمہیں ضرور دیکھیں گے، تم انہیں مضبوط دکھائی دینا، پھر وہ سب آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہو گئے، سب نے حجر اسود کا استلام کیا، اور طواف میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے رمل کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے ہمراہ تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چکروں میں کیا اور باقی چار چکر عام رفتار سے پورے کئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2868]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2869 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَأَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2869]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 2870 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، قَالَ: وَقَضَى، وَقَالَ: أَبُو نُعَيْمٍ فِي حَدِيثِهِ" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ رکاز میں پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کروانا فرض ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2870]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وانظر ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 2871 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2871]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2872 مسند احمد
أَسْوَدُ ، حَسَنٍ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ
قال عبد الله: قال أبي: وَلَمْ يَرْفَعْهُ أَسْوَدُ ، وحَدَّثَنَاه عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلا بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2872]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2873 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَيْكَ الْعِيرَ، لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ. قَالَ: فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ وَهُوَ أَسِيرٌ فِي وَثَاقِهِ: لَا يَصْلُحُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِمَ؟"، قَالَ: لِأَنَّ اللَّهَ قَدْ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2873]
حکم دارالسلام
رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
الحكم: رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 2874 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَاعِزٍ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ:" اذْهَبُوا بِهِ"، ثُمَّ قَالَ:" رُدُّوهُ"، فَاعْتَرَفَ مَرَّتَيْنِ، حَتَّى اعْتَرَفَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو لایا گیا اور انہوں نے دو مرتبہ بدکاری کا اعتراف کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ، پھر واپس بلوایا اور انہوں نے مزید دو مرتبہ اعتراف کیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، تب کہیں جا کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2874]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2875 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ: وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ. فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت، خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھا جاتا تھا، لیکن بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جس چیز میں لوگوں کو سہولت تھی، انہوں نے اس میں جلد بازی سے کام لینا شروع کر دیا (کثرت سے طلاق دینا شروع کر دی)، اس لئے اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو تین ہی کے حکم میں نافذ کر دیں تو بہتر ہے، چنانچہ انہوں نے یہ حکم نافذ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1472
الحكم: إسناده صحيح، م: 1472
حدیث نمبر: 2876 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، أَبِي هَرِمٍ ، صَدَقَةَ الدِّمَشْقِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِي هَرِمٍ ، عَنْ صَدَقَةَ الدِّمَشْقِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الصِّيَامِ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الصِّيَامِ صِيَامَ أَخِي دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا، وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نفلی روزوں کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ نفلی روزہ رکھنے کا سب سے افضل طریقہ میرے بھائی حضرت داوؤد علیہ السلام کا تھا، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2876]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، الفرج ابن فضالة، مجهول
الحكم: إسناده ضعيف جدا، الفرج ابن فضالة، مجهول
حدیث نمبر: 2877 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی کیا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم نے بھی کیا ہے، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2877]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم