عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ، فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ، وَيَزِيدُنِي، فَانْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ". قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ، وَلَيْسَ يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: ”مجھے جبرئیل علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔“ زہری نے کہا کہ وہ سات حرف کا مال اور مطلب ایک ہی ہوتا ہے کہ کسی حلال و حرام میں ان سے اختلاف نہیں پڑتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3219، م: 819
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3219، م: 819