بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2875
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2875
حدیث نمبر: 2875 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ: وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ. فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت، خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی سمجھا جاتا تھا، لیکن بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ جس چیز میں لوگوں کو سہولت تھی، انہوں نے اس میں جلد بازی سے کام لینا شروع کر دیا (کثرت سے طلاق دینا شروع کر دی)، اس لئے اگر ہم ان پر تین طلاقوں کو تین ہی کے حکم میں نافذ کر دیں تو بہتر ہے، چنانچہ انہوں نے یہ حکم نافذ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1472
الحكم: إسناده صحيح، م: 1472
← پچھلی حدیث (2874) باب پر واپس اگلی حدیث (2876) →