بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 54 از 86
حدیث نمبر: 2898 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَأٍ، مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمْ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ؟ فَقَالَ:" بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً، فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ، وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ: فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ، عَرَبًاء كُلَّهَا، وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ سبا کسی آدمی کا نام ہے یا کسی عورت کا یا کسی علاقے کا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک آدمی کا نام ہے جس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں سکونت پذیر ہو گئے، یمن میں سکونت اختیار کرنے والے مذحج، کندہ، ازد، اشعریین، انمار اور سارا عرب حمیر شامل ہے، اور شام میں رہائش اختیار کرنے والوں میں لخم، جذام، عاملہ اور غسان ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2898]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2899 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ حَتَّى قَامَتَا بَيْنَ يَدَيْهِ، عِنْدَ رَأْسِهِ، فَنَحَّاهُمَا، وَأَوْمَأَ بِيَدَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دو بچیاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر کی طرف سے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کو ایک طرف کر دیا اور اپنے ہاتھوں سے دائیں جانب یا بائیں جانب کا اشارہ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2899]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2900 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، الْمَسْعُودِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَّةَ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا، فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2900]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2140
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2140
حدیث نمبر: 2901 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، دَاوُدُ ، عِلْبَاءَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عِلْبَاءَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ، قَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی: (1) خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا (2) فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (3) مریم بنت عمران علیہما السلام (4) آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہا جو فرعون کی بیوی تھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2901]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2902 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، شُعْبَةَ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ يُصَلِّي مَضْفُورَ الرَّأْسِ، مَعْقُودًا مِنْ وَرَائِهِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْرَحْ يَحُلُّ عُقَدَ رَأْسِهِ، فَأَقَرَّ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَلِّهِ، ثُمَّ جَلَسَ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الْحَارِثِ مِنَ الصَّلَاةِ، أَتَاهُ، فَقَالَ: عَلَامَ صَنَعْتَ بِرَأْسِي مَا صَنَعْتَ بِرَأْسِي آنِفًا؟! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُودٌ مِنْ وَرَائِهِ، كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي مَكْتُوفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2902]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 492
الحكم: حديث صحيح، م: 492
حدیث نمبر: 2903 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بُكَيْرٍ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ، كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سر کے بالوں کا جوڑا بنا کر نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2903]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 2904 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أُجْرَتَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ إِيَّاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی گردن کے دونوں پہلوؤں کی پوشیدہ رگوں اور دونوں کندھوں کے درمیان سے تین مرتبہ فاسد خون نکلوایا، اور حجام کو اس کی اجرت دے دی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی نہ دیتے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2904]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2905 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2905]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 2906 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ 65 و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2906]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، قد توبع
الحكم: حديث صحيح، شريك سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 2907 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا قَدْ خَوَّى، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ کو حالت سجدہ میں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2907]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أربدة التميمي مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أربدة التميمي مجهول
حدیث نمبر: 2908 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَدَبَّرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ سَاجِدًا مُخَوِّيًا، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حالت سجدہ میں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2908]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وانظر ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 2909 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً، أَوْ حِدَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے ہر عہد و پیمان میں اسلام نے شدت یا حدت کا اضافہ ہی کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2909]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2910 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا أَمَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ"، أَوْ قَالَ:" مِنْ بَعْدِهِ" وَرُبَّمَا قَالَهُمَا جَمِيعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2910]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع، وحسين بن عبدالله ضعيف
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ ، لكنه توبع، وحسين بن عبدالله ضعيف
حدیث نمبر: 2911 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا، ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا، فَقَالَ: اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے غسل کا پانی رکھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں ایک کپڑا دیا اور فرمایا کہ یہ چادر تان کر پردہ کرواؤ اور میری طرف اپنی پشت کر کے کھڑے ہو جاؤ۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2911]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2912 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ، وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ، فَلْيَفْعَلْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2912]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، قد توبع، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، قد توبع، وسماك فى روايته عن عكرمة اضطراب
حدیث نمبر: 2913 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے۔ اور تین مرتبہ فرمایا: وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2913]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2914 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ، مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ، مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، مَلْعُونٌ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ الطَّرِيقِ، مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ". قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ثَلَاثًا فِي اللُّوطِيَّةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے، اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔ اور یہ آخری جملہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2914]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2915 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنِ الطَّرِيقِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ". قَالَهَا ثَلَاثًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرے، اور تین مرتبہ فرمایا: وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2915]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 2916 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا، وَأُمِرْتُ بِالْأَضْحَى، وَلَمْ تُكْتَبْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2916]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2917 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کر دیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2917]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه