بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 72 از 86
حدیث نمبر: 3258 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ، حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ فَأَفْطَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ماہ رمضان میں فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1944، م: 1113
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1944، م: 1113
حدیث نمبر: 3259 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْر ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْر ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَةَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِفَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" هَذِهِ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَهَا، فَلَا تُزَعْزِعُوا بها، وَلَا تُزَلْزِلُوا، وَارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِوَاحِدَةٍ". قَالَ عَطَاءٌ الَّتِي لَا يَقْسِمُ لَهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ سرف نامی مقام پر ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں، واللہ اعلم)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1465
حدیث نمبر: 3260 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ لِلْخَلَاءِ، ثُمَّ جَاءَ، فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ، فَأَكَلَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3260]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374
الحكم: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3261 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، تُوُفِّيَتْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى سَرِفَ، قَالَ:" فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ لَا تُزَعْزِعُوا بِهَا، وَلَا تُزَلْزِلُوا، ارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِلتَّاسِعَةِ". يُرِيدُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ. قَالَ عَطَاءٌ كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا، مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں، میں ان کے ساتھ مقام سرف گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمانے لگے: یہ ام المومنین ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ واللہ اعلم)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1665
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1665
حدیث نمبر: 3262 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ذَكْوَانَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَمُوتُ، وَعِنْدَهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ، وَهُوَ مِنْ خَيْرِ بَنِيكِ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمِنْ تَزْكِيَتِهِ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَقِيهٌ فِي دِينِ اللَّهِ، فَأْذَنِي لَهُ، فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْكِ وَلْيُوَدِّعْكِ. قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ. قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ سَلَّمَ وَجَلَسَ، وَقَالَ:" أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ يَذْهَبَ عَنْكِ كُلُّ أَذًى وَنَصَبٍ أَوْ قَالَ: وَصَبٍ وَتَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ أَوْ قَالَ: أَصْحَابَهُ إِلَّا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ. فَقَالَتْ: وَأَيْضًا؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ، فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مَسْجِدٌ إِلَّا وَهُوَ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ بِالْأَبْوَاءِ، فَاحْتَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ، وَالنَّاسُ مَعَهُ فِي ابْتِغَائِهَا أَوْ قَالَ: فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَصْبَحَ الْقَوْمُ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة النساء آية 43 الْآيَةَ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلنَّاسِ عَامَّةً فِي سَبَبِكِ، فَوَاللَّهِ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ. فَقَالَتْ: دَعْنِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الوفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، میں نے ان کے بھتیجے سے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں، ان کے بھتیجے نے جھک کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، وہ کہنے لگیں کہ رہنے دو (مجھ میں ہمت نہیں ہے)، اس نے کہا: اماں جان! ابن عباس تو آپ کے بڑے نیک فرزند ہیں، وہ آپ کو سلام کرنا اور رخصت کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آ کر کہا کہ خوشخبری ہو، آپ کے اور دیگر ساتھیوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہو جائے، آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب رہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گر پڑا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کر لیا لیکن صبح ہوئی تو مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا، اللہ نے آپ کی برکت سے پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، جس میں اس امت کے لئے اللہ نے رخصت نازل فرما دی، اور آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، جو سات آسمانوں کے اوپر سے جبرئیل امین علیہ السلام لے کر آئے، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں: اے ابن عباس! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، واللہ! میری تو خواہش ہے کہ میں بھولی بسری داستان بن چکی ہوتی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3262]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3263 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، أَعْلَمُهُمْ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَعْلَمُهُمْ ، قَالَ:" وَلَكِنْ يَمْنَحُ أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُعْطِيَهُ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے بڑے عالم (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے بتایا (کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے) کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
حدیث نمبر: 3264 مسند احمد
سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ" وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُهُمْ، وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَى مِنَ الْغُلَامِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بچوں کو قتل کرنے کے حوالے سے سوال کیا، انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے؟ تو یاد رکھئے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر علیہ السلام کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3264]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:1812
الحكم: إسناده صحيح، م:1812
حدیث نمبر: 3265 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا. قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَاكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشا کو جمع فرمایا۔ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3265]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 705
الحكم: إسناده صحيح، م: 705
حدیث نمبر: 3266 مسند احمد
سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُهُ بِعَرَفَةَ، فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، لَعَلَّكَ صَائِمٌ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَصُومُهُ. وَقَالَ مَرَّةً:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ قریب ہو جاؤ اور تم بھی کھاؤ، شاید تم روزے سے ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3267 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، الْحَجَّاجُ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ، أَعْتَقَ مِنْ رَقِيقِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ طائف کے موقع پر جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کر دیا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آگئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3267]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 3268 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا، كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ يَقْصُرْ الصَّلَاةَ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتدا میں ادا کی تھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3268]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حميد بن على ضعيف، والضحاك بن مزاحم لم يسمع من ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، حميد بن على ضعيف، والضحاك بن مزاحم لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 3269 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ ثُمَّ يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ، مَثَلُ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَأْكُلُ قَيْئَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح خ: 2621، م: 1622
الحكم: إسناده صحيح خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 3270 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3270]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سماك فى روايته اضطراب، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، سماك فى روايته اضطراب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 3271 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَاسْتَنَّ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَاسْتَنَّ وَتَوَضَّأَ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. حَتَّى صَلَّى سِتًّا، ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نیند سے بیدار ہوئے، مسواک کی، دو رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے، مسواک کی، وضو کیا، دو رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھ رکعتیں پڑھیں، پھر تین وتر پڑھے اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3271]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 3272 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ ، قَتَادَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ قَتَادَةَ أَنَّهُ شَهِدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَفْتِي النَّاسَ، وَلَا يَذْكُرُ فِي فُتْيَاهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ عِرَاقِيٌّ، وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ؟ فَقَالَ: ادْنُهْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا، كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اس دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں، اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہو گیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا، ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5963، م: 2110
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5963، م: 2110
حدیث نمبر: 3273 مسند احمد
زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ التَّمِيمِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَقَالَ:" إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ، فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز یہ کہ جب اس کا مالک اس کی قیمت کا مطالبہ کرنے کے لئے آئے تو اس کی ہتھیلیاں مٹی سے بھر دو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3274 مسند احمد
زَكَرِيَّا ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ الْخَمْرَ، وَالْمَيْسِرَ، وَالْكُوبَةَ"، وَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے تم پر شراب، جوا اور کوبہ (طبل) کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3275 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّمَ رَجُلًا فِي شَيْءٍ، فَقَالَ:" إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ، فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے جواب میں یہ کلمات فرمائے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام تعریفات اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی کی تعریف کرتے اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 868
الحكم: إسناده صحيح، م: 868
حدیث نمبر: 3276 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة آل عمران آية 191، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں رات گذاری، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، باہر نکل کر آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، پھر سورہ آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ . . . . . سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ [آل عمران: 190-191] » بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے، . . . . . تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ پھر گھر میں داخل ہو کر مسواک کی، وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے، پھر تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گئے، کچھ دیر بعد دوبارہ باہر نکل کر آسمان کی طرف دیکھا اور مذکورہ عمل دو مرتبہ مزید دہرایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 256
الحكم: إسناده صحيح، م: 256
حدیث نمبر: 3277 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ حُجْرَتِهِ، قَالَ يَحْيَى: قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ:" يَجِيئُكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَلَا تُكَلِّمُوهُ"، فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ، فَقَالَ:" عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ؟"، قَالَ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ بِهِمْ، قَالَ: فَذَهَبَ، فَجَاءَ بِهِمْ، فَجَعَلُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا، وَمَا فَعَلُوا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ سورة المجادلة آية 18 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کسی حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی وہاں موجود تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس سے کوئی بات نہ کرنا۔ تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا؟ اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ . . . . .﴾ [المجادلة: 18] » جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں . . . . . کہ یہ جھوٹ پر قسم کھا لیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3277]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن