بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 27 از 86
حدیث نمبر: 2358 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، عَجَبًا لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ! فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً، فَمِنْ هُنَالِكَ اخْتَلَفُوا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَحَفِظُوا عَنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ، فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا، فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ , ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ , وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ، وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ , وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ , فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! مجھے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف پر بڑا تعجب ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس وقت اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ساری زندگی میں صرف ایک حج کیا تھا، یہیں سے لوگوں میں اختلاف ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج کے ارادے سے نکلے، جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعتیں پڑھ چکے تو وہیں بیٹھے بیٹھے حج کا احرام باندھ لیا، لوگوں نے اسے سن کر اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے، جب اونٹنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ احرام کی نیت والے الفاظ کہے، کچھ لوگوں نے یہ الفاط سن لئے کیونکہ لوگ مختلف ٹولیوں کی شکل میں آتے تھے، اکٹھے ہی سارے نہیں آ جاتے تھے، یہ لوگ بعد میں کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت احرام باندھا تھا جب اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر سیدھی ہوگئی تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے روانہ ہوئے، جب بیداء کی چوٹی پر چڑھے تو دوبارہ تلبیہ کہا، کچھ لوگوں نے اس وقت کو یاد رکھا اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیداء کی چوٹی پر احرام باندھا ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام کی نیت تو اپنی جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے ہی کر لی تھی، البتہ تلبیہ کا اعادہ اس وقت بھی کیا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری آپ کو لے کر چلنے لگی تھی، اور اس وقت بھی جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیداء کی چوٹی پر چڑھے تھے، اس لئے جو شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ احرام کی دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی احرام کی نیت کر لے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2358]
حکم دارالسلام
حسن لغير، وهذا إسناد محتمل للتحسين، وخصيف بن عبدالرحمن سيئ الحفظ ، وحديثه يصلح للمتابعات
الحكم: حسن لغير، وهذا إسناد محتمل للتحسين، وخصيف بن عبدالرحمن سيئ الحفظ ، وحديثه يصلح للمتابعات
حدیث نمبر: 2359 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، رَجُلٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِائَةَ بَدَنَةٍ، نَحَرَ مِنْهَا ثَلَاثِينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا بَقِيَ مِنْهَا، وَقَالَ:" اقْسِمْ لُحُومَهَا وَجِلَالَهَا وَجُلُودَهَا بَيْنَ النَّاسِ، وَلَا تُعْطِيَنَّ جَزَّارًا مِنْهَا شَيْئًا، وَخُذْ لَنَا مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ حُذْيَةً مِنْ لَحْمٍ، ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي قِدْرٍ وَاحِدَةٍ، حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا، وَنَحْسُوَ مِنْ مَرَقِهَا" , فَفَعَلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش کی، جن میں سے تیس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور باقی انہوں نے ذبح کئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ ان سب کا گوشت، جھولیں اور کھالیں لوگوں میں تقسیم کر دو، قصاب کو اس میں کوئی چیز بطور اجرت کے نہ دینا، اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک لمبا ٹکڑا ہمارے لئے رکھ لینا، پھر ان سب کو ایک ہنڈیا میں پکانا تاکہ ہم بھی اس کا گوشت کھا سکیں اور اس کا شوربہ پی سکیں، چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2359]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الإبهام شيخ محمد بن إسحاق، ثم متن الحديث مخالف للحديث الصحيح، والصواب : نحر رسول الله بيده ثلاثا وستين بدنة ونحر على ما غبر، وهو سبع وثلاثون بدنة
الحكم: إسناده ضعيف، الإبهام شيخ محمد بن إسحاق، ثم متن الحديث مخالف للحديث الصحيح، والصواب : نحر رسول الله بيده ثلاثا وستين بدنة ونحر على ما غبر، وهو سبع وثلاثون بدنة
حدیث نمبر: 2360 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ: مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ مَعَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَة، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ، إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا , فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيُحِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ , فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ، وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابوالعباس! آپ تو یہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر حج پر نہ جا رہا ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے، اور وہ حاجی جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر جا رہا ہو، اس کا حج اور عمرہ اکٹھا ہو جاتا ہے، لیکن لوگ اس طرح نہیں کہتے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب روانہ ہوئے تھے تو انہوں نے احرام باندھتے وقت صرف حج کا ذکر کیا تھا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہوجائے، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو حج کا احرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ حج نہیں ہے بلکہ عمرہ ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2360]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2361 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُس ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُس ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَدَخَلَ صَفَرْ، فَقَدْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ» کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو صرف اس لئے عمرہ کروایا تھا کہ مشرکین کے اس خیال کی بیخ کنی فرما دیں جو کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہو جائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2361]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2362 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ" أَهْدَى جَمَلَ أَبِي جَهْلٍ، الَّذِي كَانَ اسْتَلَبَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدْيِهِ" , وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ:" لِيَغِيظَ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سو اونٹوں کی قربانی دی) جن میں ابوجہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا تاکہ مشرکین کو غصہ دلائیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2362]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وتصريح ابن إسحاق هنا بالتحديث فيه وقفة
الحكم: حسن لغيره، وتصريح ابن إسحاق هنا بالتحديث فيه وقفة
حدیث نمبر: 2363 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ رمضان، وَصَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ، دَعَا بِمَاءٍ فِي قَعْبٍ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، يُعْلِمُهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَفْطَرَ، فَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے سال ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمانوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اور مسلمانوں نے بھی اپنا روزہ ختم کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2364 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُم، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرِ فِيهِ، فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ، ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5917، م: 2336
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5917، م: 2336
حدیث نمبر: 2365 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2365]
حکم دارالسلام
حديث صحيح. م: 1421
الحكم: حديث صحيح. م: 1421
حدیث نمبر: 2366 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَكَانَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ إِسْلَامِهِ بِسِتِّ سِنِينَ عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ، وَلَمْ يُحْدِثْ شَهَادَةً وَلَا صَدَاقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کر دیا، از سر نو نکاح اور مہر مقرر نہیں کیا، حالانکہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے چھ سال قبل اسلام قبول کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2366]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2367 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَلْعَجْلَانَ، فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ , قَالَ: فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: بَلَى، قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ , قَالَ: فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا، وَأَعْطَاهَا الْمَهْر".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کے قبیلہ بنو عجلان کی ایک عورت سے نکاح کیا، اس نے اس کے ساتھ رات گذاری، صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اسے کنوارا نہیں پایا، یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لڑکی کو بلا کر اس سے پوچھا، تو اس نے کہا: کیوں نہیں، میں تو کنواری تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو مہر دلوایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2367]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لتدليس محمد بن إسحاق
الحكم: إسناده ضعيف، لتدليس محمد بن إسحاق
حدیث نمبر: 2368 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّيْبَانِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، وَسَعْدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ، عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِهِ، فَلَمَّا وَجَدَ الْيَهُودِيُّ مَسَّ الْحِجَارَةِ قَامَ عَلَى صَاحِبَتِهِ، فَجنَا عَلَيْهَا يَقِيهَا مَسَّ الْحِجَارَةِ، حَتَّى قُتِلَا جَمِيعًا، فَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ فِي تَحْقِيقِ الزِّنَا مِنْهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی مرد و عورت کو مسجد کے دروازے کے پاس رجم کرنے کا حکم دیا، یہودی کو جب پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ اس عورت کو جھک جھک کر بچانے کی کوشش کرنے لگا، تاآنکہ وہ دونوں ختم ہو گئے، درحقیقت ان دونوں کو جو سزا دی گئی تھی، وہ اللہ کی مقرر کردہ سزا تھی کیونکہ ان دونوں کے متعلق بدکاری کا ثبوت مہیا ہو گیا تھا اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر یہ سزا جاری فرمائی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2368]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2369 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ، فَقَالَ:" هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھا لیا؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ مردہ ہے، فرمایا: اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہو سکتی ہے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1492، م: 363
حدیث نمبر: 2370 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَبَعَثَ كِتَابَهُ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، لِيَدْفَعَهُ إِلَى قَيْصَرَ، فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إلى قيصر، وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ، مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلْيَاءَ عَلَى الزَّرَابِيِّ تُبْسَطُ لَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا جَاءَ قَيْصَرَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ حِينَ قَرَأَهُ: الْتَمِسُوا لِي مِنْ قَوْمِهِ مَنْ أَسْأَلُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ أَنَّهُ كَانَ بِالشَّامِ فِي رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدِمُوا تُجَّارًا، وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَأَتَانِي رَسُولُ قَيْصَرَ، فَانْطَلَقَ بِي وَبِأَصْحَابِي، حَتَّى قَدِمْنَا إِيلْيَاءَ، فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِ مُلْكِهِ، عَلَيْهِ التَّاجُ، وَإِذَا حَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ، فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: سَلْهُمْ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ إِلَيْهِ نَسَبًا , قَالَ: مَا قَرَابَتُكَ مِنْه؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ ابْنُ عَمِّي , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَلَيْسَ فِي الرَّكْبِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ غَيْرِي، قَالَ: فَقَالَ قَيْصَرُ: أَدْنُوهُ مِنِّي , ثُمَّ أَمَرَ بِأَصْحَابِي، فَجُعِلُوا خَلْفَ ظَهْرِي عِنْدَ كَتِفِي، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لِأَصْحَابِهِ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَ، فَكَذِّبُوهُ , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَوَاللَّهِ لَوْلَا الِاسْتِحْيَاءُ يَوْمَئِذٍ أَنْ يَأْثُرَ أَصْحَابِي عَنِّي الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ حِينَ سَأَلَنِي، وَلَكِنِّي اسْتَحَيْتُ أَنْ يأْثَرواَ عَنِّي الْكَذِبُ، فَصَدَقْتُهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: كَيْفَ نَسَبُ هَذَا الرَّجُلِ فِيكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ، قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ فِي الْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا , قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَأَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ , قَالَ: فَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ , قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا , وَنَحْنُ الْآنَ مِنْهُ فِي مُدَّة، وَنَحْنُ نَخَافُ ذَلِكَ , قَالَ: قال أَبُو سُفْيَانَ: وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا أَنْتَقِصُهُ بِهِ غَيْرُهَا، لا أَخَافُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي، قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ أَوْ قَاتَلَكُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَم , قَال: كَيْفَ كَانَتْ حَرْبُكُمْ وَحَرْبُهُ؟ قَالَ: قُلْتُ: كَانَتْ دُوَلًا سِجَالًا نُدَالُ عَلَيْهِ الْمَرَّةَ، وَيُدَالُ عَلَيْنَا الْأُخْرَى , قَالَ: فَبِمَ يَأْمُرُكُمْ، قَالَ: قُلْتُ: يَأْمُرُنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَيَنْهَانَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا، وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ، وَالصِّدْقِ، وَالْعَفَافِ، وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ , قَالَ: فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ: قُلْ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فِيكُمْ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا , وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَطُّ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ , وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ، قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ , وَسَأَلْتُكَ: أَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمْ اتَّبَعُوهُ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ , وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ , وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ يُخَالِطُ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ لَا يَسْخَطُهُ أَحَدٌ , وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ , وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ وَقَاتَلَكُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ، وَأَنَّ حَرْبَكُمْ وَحَرْبَهُ يَكُونُ دُوَلًا، يُدَالُ عَلَيْكُمْ الْمَرَّةَ، وَتُدَالُونَ عَلَيْهِ الْأُخْرَى، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، وَيَكُونُ لَهَا الْعَاقِبَةُ , وَسَأَلْتُكَ: بِمَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَيَنْهَاكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ، وَيَأْمُرُكُمْ بِالصِّدْقِ، وَالصَّلَاةِ، وَالْعَفَافِ، وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَهَذِهِ صِفَةُ نَبِيٍّ قَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَكِنْ لَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ , فَإِنْ يَكُنْ مَا قُلْتَ فِيهِ حَقًّا، فَيُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، وَاللَّهِ لَوْ أَرْجُو أَنْ أَخْلُصَ إِلَيْه، لَتَجَشَّمْتُ لُقِيَّهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ، لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ، فَقُرِئَ، فَإِذَا فِيهِ:" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ , أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِيِّينَ يَعْنِي: الْأَكَّارَةَ , وَ يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 64" , قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَمَّا قَضَى مَقَالَتَهُ، عَلَتْ أَصْوَاتُ الَّذِينَ حَوْلَهُ مِنْ عُظَمَاءِ الرُّومِ، وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ، فَلَا أَدْرِي مَاذَا قَالُوا، وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَمَّا خَرَجْتُ مَعَ أَصْحَابِي وَخَلَصْتُ لَهُمْ، قُلْتُ لَهُمْ: أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، هَذَا مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ يَخَافُهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ ذَلِيلًا مُسْتَيْقِنًا أَنَّ أَمْرَهُ سَيَظْهَرُ، حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ قَلْبِي الْإِسْلَامَ، وَأَنَا كَارِهٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قیصر روم کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی دعوت دی، اور یہ خط دے کر سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، اور انہیں یہ حکم دیا کہ یہ خط بصرہ کے گورنر تک پہنچا دینا تاکہ وہ قیصر کے پاس اس خط کو بھجوا دے، چنانچہ بصرہ کے گورنر نے وہ خط قیصر روم تک پہنچا دیا، قیصر کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایرانی لشکروں پر فتح یابی عطا فرمائی تھی اس لئے وہ اس کی خوشی میں شکرانے کے طور پر حمص سے بیت المقدس تک پیدل سفر طے کر کے آیا ہوا تھا، اس سفر میں اس کے لئے راستے بھر قالین بچھائے گئے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب قیصر کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط ملا تو اس نے وہ خط پڑھ کر کہا کہ ان کی قوم کا کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ تاکہ میں اس سے کچھ سوالات پوچھ سکوں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ہرقل (شاہ روم) نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا (اور وہ) قریش کے چند سواروں میں (اس وقت بیٹھے ہوئے تھے) اور وہ لوگ شام میں تاجر (بن کر گئے) تھے (اور یہ واقعہ) اس زمانہ میں (ہوا ہے) جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوسفیان اور کفار قریش سے ایک محدود عہد کیا تھا۔ چنانچہ قریش ہرقل کے پاس آئے اور یہ لوگ (اس وقت) ایلیا میں تھے، تو ہرقل نے ان کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اس کے گرد سرداران روم (بیٹھے ہوئے تھے) پھر ان (سب قریشیوں کو) اس نے (اپنے قریب) بلایا اور اپنے ترجمان کو طلب کیا اور (قریشیوں سے مخاطب ہو کر) کہا کہ تم میں سب سے زیادہ اس شخص کا قریب النسب کون ہے، جو اپنے کو نبی کہتا ہے؟ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ان میں سب سے زیادہ (ان کا) قریب النسب ہوں، (یہ سن کر) ہرقل نے کہا کہ ابوسفیان کو میرے قریب کر دو اور اس کے ساتھیوں کو (بھی) قریب رکھو اور ان کو ابوسفیان کے پس پشت (کھڑا) کرو، پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ابوسفیان سے اس مرد کا حال پوچھتا ہوں (جو اپنے کو نبی کہتا ہے) پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ بیان کرے تو تم (فورا) اس کی تکذیب کر دینا (ابوسفیان کہتے ہیں کہ) اللہ کی قسم! اگر (مجھے) اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ میرے اوپر جھوٹ بولنے کا الزام لگائیں گے، تو یقینا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت غلط باتیں بیان کر دیتا۔ غرض سب سے پہلے جو ہرقل نے مجھ سے پوچھا وہ یہ تھا کہ ان کا نسب تم لوگوں میں کیسا ہے؟ میں نے کہا کہ وہ ہم میں (بڑے) نسب والے ہیں۔ (پھر) ہرقل نے کہا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے پہلے بھی اس بات (یعنی نبوت) کا دعوی کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، (پھر) ہرقل نے کہا کہ کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، (پھر) ہرقل نے کہا کہ بااثر لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ میں نے کہا: (امیروں نے نہیں بلکہ) کمزور لوگوں نے۔ (پھر) ہرقل بولا کہ آیا ان کے پیرو (دن بہ دن) بڑھتے جاتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں؟ میں نے کہا: (کم نہیں ہوتے بلکہ) زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ آیا ان (لوگوں) میں سے (کوئی) ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے بدظن ہو کر منحرف بھی ہو جاتا ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ کیا وہ (کبھی) وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ نہیں، اور اب ہم ان کی طرف سے مہلت میں ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ اس (مہلت کے زمانہ) میں کیا کریں گے (وعدہ خلافی یا وعدہ وفائی)، ابوسفیان کہتے ہیں کہ سوائے اس کلمہ کے اور مجھے قابو نہیں ملا کہ میں کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات میں داخل کر دیتا۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ کیا تم نے (کبھی) اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، تو (ہرقل) بولا: تمہاری جنگ اس سے کیسی رہتی ہے؟ میں نے کہا کہ لڑائی ہمارے اور ان کے درمیان ڈول (کے مثل) رہتی ہے کہ (کبھی) وہ ہم سے لے لیتے ہیں اور (کبھی) ہم ان سے لے لیتے ہیں (یعنی کبھی ہم فتح پاتے ہیں اور کبھی وہ)۔ (پھر) ہرقل نے پوچھا کہ وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور (شرکیہ باتیں و عبادتیں) جو تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، سب چھوڑ دو، اور ہمیں نماز (پڑھنے) اور سچ بولنے اور پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہو کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان میں (اعلی) نسب والے ہیں، چنانچہ تمام پیغمبر اپنی قوم کے نسب میں اسی طرح (اعلی نسب) مبعوث ہوا کرتے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا یہ بات (یعنی اپنی نبوت کی خبر) تم میں سے کسی اور نے بھی ان سے پہلے کہی تھی؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ میں نے (اپنے دل میں) یہ کہا تھا کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کوئی کہہ چکا ہو تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک ایسے آدمی ہیں جو اس کی تقلید کرتے ہیں جو ان سے پہلے کہا جا چکا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! پس میں نے (اپنے دل میں) کہا تھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوا ہوگا تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک شخص ہیں جو اپنے باپ دادا کا ملک (اقتدار حاصل کرنا) چاہتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا اس سے پہلے کہ انہوں نے جو یہ بات (نبوت کا دعوی) کہی ہے، کہیں تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا کہ نہیں، پس (اب) میں یقینا جانتا ہوں کہ (کوئی شخص) ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوگوں سے جھوٹ بولنا (غلط بیانی) چھوڑ دے اور اللہ پر جھوٹ بولے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا بڑے (بااثر) لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے؟ تم نے کہا کہ کمزور لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے، اور (دراصل) تمام پیغمبروں کے پیرو یہی لوگ (ہوتے رہے) ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے پیرو زیادہ ہوتے جاتے ہیں یا کم؟ تو تم نے بیان کیا کہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ اور (درحقیقت) ایمان کا یہی حال (ہوتا) ہے تاوقتیکہ کمال کو پہنچ جائے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص بعد اس کے کہ ان کے دین میں داخل ہو جائے، ان کے دین سے ناخوش ہو کر (دین سے) پھر بھی جاتا ہے؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! اور ایمان (کا حال) ایسا ہی ہے جب اس کی بشاشت دلوں میں رچ بس جائے (تو پھر نہیں نکلتی)، اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں! اور (بات یہ ہے کہ) اسی طرح تمام پیغمبر وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو نیز تمہیں بتوں کی پرستش سے منع کرتے ہیں اور تمہیں نماز (پڑھنے)، سچ بولنے اور پرہیزگاری (اختیار کرنے) کا حکم دیتے ہیں۔ پس اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کے مالک ہو جائیں گے اور بےشک میں (کتب سابقہ کی پیش گوئی سے) جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں، مگر میں یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے۔ پس اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے ملنے کا بڑا اہتمام و سعی کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو یقینا میں ان کے قدموں کو دھوتا۔ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا (مقدس) خط منگوایا (اور اس کو پڑھوایا) تو اس میں (یہ مضمون) تھا: اللہ نہایت مہربان، رحم والے کے نام سے (یہ خط ہے)، اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے بادشاہ روم کی طرف۔ اس شخص پر سلام ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ بعد اس کے (واضح ہو کہ) میں تم کو اسلام کی طرف بلاتا ہوں۔ اسلام لاؤ گے تو (قہر الہی سے) بچ جاؤ گے اور اللہ تمہیں تمہارا ثواب دو گنا دے گا اور اگر تم (میری دعوت سے) منہ پھیروگے تو بلاشبہ تم پر (تمہاری) تمام رعیت کے (ایمان نہ لانے کا) گناہ ہوگا اور اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، یعنی یہ کہ ہم اور تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور نہ ہم میں سے کوئی کسی کو سوائے اللہ کے پروردگار بنائے، پھر اگر اہل کتاب اس سے اعراض کریں تو تم کہہ دینا کہ اس بات کے گواہ رہو کہ ہم تو اللہ کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ جب ہرقل نے جو کچھ کہنا تھا، کہہ چکا اور (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا) خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے ہاں بہت ہی شور مچنے لگا، آوازیں بلند ہوئیں اور ہم لوگ (وہاں سے) نکال دیئے گئے، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا، جب کہ ہم باہر کر دیئے گئے کہ (دیکھو تو) ابوکبشہ کے بیٹے (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا معاملہ و رتبہ ایسا بڑھ گیا کہ اس سے بنو اصفر (روم) کا بادشاہ بھی خوف کھاتا ہے۔ پس ہمیشہ میں اس کا یقین رکھتا رہا کہ وہ عنقریب غالب ہو جائیں گے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے زبردستی مشرف بہ اسلام کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7، م: 1773
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7، م: 1773
حدیث نمبر: 2371 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَتَبَ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7، م: 1173
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7، م: 1173
حدیث نمبر: 2372 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2372]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 7، م: 1173
الحكم: إسناده صحيح، خ : 7، م: 1173
حدیث نمبر: 2373 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ , سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ , عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ذَكَرَ لِي أن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ , أُرَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَفَظِعْتُهُمَا، فَكَرِهْتُهُمَا، وَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُ: كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ" , قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اگر آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی خواب یاد ہو تو بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں سو رہا تھا، ایسا محسوس ہوا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے ہیں، میں گھبرا گیا اور ان سے مجھے بڑی کراہت ہوئی، مجھے حکم ہوا تو میں نے ان دونوں پر پھونک مار دی اور وہ دونوں اڑ گئے، میں اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کرتا ہوں جن کا خروج ہوگا۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک اسود عنسی تھا جسے سیدنا فیروز رضی اللہ عنہ نے یمن میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2373]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4379، م: 2274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4379، م: 2274
حدیث نمبر: 2374 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا حَسَنٍ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى أَنْتَ؟ وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ هَذَا، إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ؟ فَإِنْ كَانَ فِينَا، عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا , كَلَّمْنَاهُ، فَأَوْصَى بِنَا , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا، لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا، فَوَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُ أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الحمدللہ ٹھیک ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ واللہ! اس بیماری سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جانبر نہ ہو سکیں گے اور) وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں، اس لئے آؤ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا، اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی درخواست کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2374]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4447
حدیث نمبر: 2375 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، مُحَمَّد ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ مُحَمَّد , وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي، حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حدیث نمبر 278 ایک دوسری سند سے یہاں بھی مروی ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے: مجھے جبرئیل امین علیہ السلام نے قرآن کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2375]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، وهذا من حديث عمر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، وهذا من حديث عمر
حدیث نمبر: 2376 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ:" أَقْبَلْتُ، وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلُمَ، أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ بَمنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا، فَرَتَعَتْ، فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو میدان منی میں نماز پڑھا رہے تھے، میں - اس وقت قریب البلوغ تھا - ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور پہلی صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2376]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 4412، م: 504
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 4412، م: 504
حدیث نمبر: 2377 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَباس بْنِ عَلْقَمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَباس بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغَدِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ قَدْ أَوْصَتْ لَهُ بِهِ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ، بُسِطَ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ، فَجَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ، قَال: فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنَ الطَّعَامِ، قَالَ: فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ إِلَى عَيْنَيْهِ، وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَنَهَضَ خَارِجًا، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ، لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ، وَوُضِعَتْ لَهُمْ فِي الْحُجْرَةِ، قَالَ: فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ، قَالَ: ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ، وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مَاءً، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ" , وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں جمعہ کے اگلے دن حاضر ہوا، اس وقت وہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے کیونکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اس کی وصیت فرمائی تھی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جب جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کے لئے وہاں گدا بچھا دیا جاتا تھا اور وہ لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کے لئے وہاں آکر بیٹھ جاتے۔ چنانچہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، میں سن رہا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا - اس وقت وہ نابینا ہو چکے تھے - اور فرمایا کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی حجرے میں نماز ظہر کے لئے وضو کیا، تھوڑی دیر بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے بلانے آگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر آنے کے لئے اٹھے، ابھی اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہی تھے کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھیجا ہوا گوشت اور روٹی کا ہدیہ آ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر حجرہ میں واپس چلے گئے اور ان کے سامنے وہ کھانا پیش کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی تناول فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی کھایا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یا آپ کے کسی صحابی رضی اللہ عنہم نے پانی کو چھوا تک نہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اسی طرح نماز پڑھا دی۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری معاملات یاد تھے اور وہ اس وقت سمجھدار ہو گئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2377]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 354، 359
الحكم: إسناده حسن، م: 354، 359