يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ رمضان، وَصَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ، دَعَا بِمَاءٍ فِي قَعْبٍ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، يُعْلِمُهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَفْطَرَ، فَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے سال ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمانوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اور مسلمانوں نے بھی اپنا روزہ ختم کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2363]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن