يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، كُرَيْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ: مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ مَعَهُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَة، وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ، إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ، وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا , فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ، لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيُحِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ , فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ، وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اے ابوالعباس! آپ تو یہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر حج پر نہ جا رہا ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہو جائے، اور وہ حاجی جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر جا رہا ہو، اس کا حج اور عمرہ اکٹھا ہو جاتا ہے، لیکن لوگ اس طرح نہیں کہتے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب روانہ ہوئے تھے تو انہوں نے احرام باندھتے وقت صرف حج کا ذکر کیا تھا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ”جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہوجائے“، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو حج کا احرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حج نہیں ہے بلکہ عمرہ ہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2360]
الحكم: إسناده حسن