بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 22 از 86
حدیث نمبر: 2258 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" مَرَّتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَجَاءَتَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَرَرْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، وَنَحْنُ عَلَى حِمَارٍ فَجِئْنَا، فَدَخَلْنَا فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برابر نماز پڑھتے رہے، اسی طرح ایک مرتبہ میں اور ایک انصاری آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے گزرے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، ہم اپنے گدھے پر سوار تھے، ہم لوگ آئے اور نماز میں شامل ہو گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2258]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2259 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" حَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ غِلْمَةِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَاحِدًا خَلْفَهُ، وَوَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو عبدالمطلب کے ایک بچے کو اٹھا کر اپنے پیچھے سوار کر لیا اور دوسرے کو اپنے آگے بٹھا لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1798
حدیث نمبر: 2260 مسند احمد
مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ يعني الرَّقِّيُّ ، الْحَجَّاجِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ يعني الرَّقِّيُّ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، بادشاہ اس کا ولی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2260]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن ولم يسمع من عكرمة
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن ولم يسمع من عكرمة
حدیث نمبر: 2261 مسند احمد
مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، حَجَّاجٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2261]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2262 مسند احمد
مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا" , قَالَ: وقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ تُقْصَرْ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً واحدة، حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں ادا کی تھیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2262]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حميد بن على ضعيف، الضحاك بن مزاحم لم يسمع من ابن عباس
الحكم: إسناده ضعيف، حميد بن على ضعيف، الضحاك بن مزاحم لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2263 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں پر اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2263]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيء الحفظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيء الحفظ
حدیث نمبر: 2264 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي:" أَيُّهَا النَّاسُ، لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ" , قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ مِنْ رَافِعَةٍ يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى نَزَلَ جَمْعًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو یہ منادی کرنے کے لئے فرمایا کہ لوگو! گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2264]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، المسعودي مختلط، لكن روي عنه هذا الحديث قبل الاختلاط
الحكم: حديث صحيح، المسعودي مختلط، لكن روي عنه هذا الحديث قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 2265 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، شُعْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ" كانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَدَخَلَ الشِّعْبَ، فَنَزَلَ فَأَهْرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَرَكِبَ وَلَمْ يُصَلِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یوم عرفہ کے موقع پر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ردیف تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گھاٹی میں داخل ہو کر وہاں اترے، پانی بہایا، وضو کیا اور سوار ہو گئے اور نماز نہیں پڑھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2265]
حکم دارالسلام
صحيح ، شعبة بن دينار مختلف فيه
الحكم: صحيح ، شعبة بن دينار مختلف فيه
حدیث نمبر: 2266 مسند احمد
سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ , أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ" , فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، وَكَانَتْ امْرَأَةً حَسْنَاءَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ، فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ادا ہو جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس دوران سیدنا فضل رضی اللہ عنہ اس عورت کو مڑ مڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2266]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2267 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ ، أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الضُّحَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، قَالَ: كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ، وَالْأَرْضَ عَلَى ذِه، وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ، وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ، وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ؟ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِأَصَابِعِهِ , قَالَ:" فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس - جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے - ایک یہودی کا گزر ہوا، وہ کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھا لے گا اور اس نے شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر؟ اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [الأنعام: 91] » ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدر دانی کرنے کا حق تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2267]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين الأشقر، و عطاء بن السائب مختلط
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف حسين الأشقر، و عطاء بن السائب مختلط
حدیث نمبر: 2268 مسند احمد
حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ، أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الضُّحَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ، قَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَأْتِنِي بِهِ" , قَالَ: فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ، قَالَ: فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ، وَأَمَرَ بِلَالًا , فَقَالَ:" نَادِ فِي النَّاسِ، الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چنانچہ ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: وہ میرے پاس لے آؤ، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو مبارک پانی آ کر لے جائیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2268]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2269 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ خِرِّيتٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ خِرِّيتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ، وَبَدَتْ النُّجُومُ، وَعَلِقَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ الصلاة، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَغَضِبَ، فقَالَ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ؟" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَجَدْتُ فِي نَفَسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلْتُهُ، فَوَافَقَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی بھی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کر دیا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غصہ آ گیا اور وہ فرمانے لگے: کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشا کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے، راوی حدیث عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس کے متلعق کچھ خلجان سا پیدا ہوا، چنانچہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی اس کی موافقت کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2269]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح. م: 705
الحكم: إسناده صحيح. م: 705
حدیث نمبر: 2270 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَوْ أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَم إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ، مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ مِنْ ذارئ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَ يَعْرِضُ ذُرِّيَّتَهُ عَلَيْهِ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ , قَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ عُمْرُهُ؟ قَالَ: سِتُّونَ عَامًا , قَالَ: رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ , قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُ مِنْ عُمْرِكَ , وَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ، فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ عَامًا، فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِذَلِكَ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ، وَأَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَهُ، قَالَ: إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ عَامًا , فَقِيلَ: إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ , قَالَ: مَا فَعَلْتُ , وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، وَشَهِدَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیات تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا، اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ آپ کے بیٹے داؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہو سکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا، اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2270]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ضعيف ، وكذا أبو يوسف بن مهران
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ضعيف ، وكذا أبو يوسف بن مهران
حدیث نمبر: 2271 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ، وَلَا رَآهُمْ، انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ الشُّهُبُ، قَالَ: فَرَجَعَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ، وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ، قَالَ: فَقَالُوا: ما حال بينكم وبين خبر السماء إلا شيء حدث، فاضربوا مشارق الأرض ومغاربها، فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ , قَالَ: فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ، وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ، اسْتَمَعُوا لَهُ، وَقَالُوا: هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ , قَالَ: فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ، فَقَالُوا: يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ سورة الجن آية 1 - 2، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ سورة الجن آية 1 وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بالارادہ جنات کو قران کریم کی تلاوت نہیں سنائی تھی اور نہ ہی انہیں دیکھا تھا، اصل میں ہوا یوں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ عکاظ نامی مشہور بازار تشریف لے گئے تھے، اس وقت تک شیاطین اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ حائل ہو چکی تھی، اور ان پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے تھے، شیاطین پریشان ہو کر اپنی قوم میں واپس آئے تو قوم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹیں حائل ہو گئی ہیں اور ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے ہیں، قوم نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے، تم مشرق اور مغرب میں پھیل جاؤ اور معلوم کرو کہ وہ کون سی چیز ہے جس کی بناء پر تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے؟ چنانچہ یہ لوگ اس کا سبب معلوم کرنے کے لئے مشرق اور مغرب میں پھیل گئے، ان میں سے جو شیاطین تہامہ کی طرف گئے تھے، واپسی میں ان کا گزر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوق عکاظ کے ارادے سے ایک باغ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، جب ان کے کانوں میں قران کریم کی آواز پڑی تو انہوں نے اسے توجہ سے سننا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہو گئی ہے۔ پھر جب یہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے ہماری قوم! ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو رشد و ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ . . .﴾ [الجن: 1] » گویا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صرف وحی جنات کے قول کی ہوئی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ : 773، م: 449
الحكم: إسناده صحيح، خ : 773، م: 449
حدیث نمبر: 2272 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر فرمایا اور فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - اور جو لوگ اس سے پیچھے رہتے ہوں، وہ وہیں سے احرام باندھ لیں گے جہاں سے وہ ابتدا کریں گے، حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہو گا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1524، م: 1181
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1524، م: 1181
حدیث نمبر: 2273 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2273]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1410
حدیث نمبر: 2274 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ: إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ، وَعَفَا الْأَثَرْ، وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَر، فقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصَبِيحَةِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ:" الْحِلُّ كُلُّهُ" , وَفِي كِتَابِهِ: لِصُبْحٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اشہر حرم میں عمرہ کرنا زمین پر ہونے والے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے، اور وہ محرم کے مہینے کو صفر کا مہینہ بھی بنا ڈالتے تھے، اور کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہو جائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہو جائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہو جاتا ہے۔ اتفاق سے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ حج کا احرام باندھ کر پہنچے تو وہ تاریخ چار ذی الحجہ کی صبح تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ اس احرام کو عمرہ کا احرام بنا لیں، لوگوں نے اسے بہت بڑی بات سمجھا اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! یہ کیسا حلال ہونا ہوا؟ فرمایا: مکمل طور پر حلال ہونا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2274]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1564، م: 1240
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1564، م: 1240
حدیث نمبر: 2275 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" ذَلِكَ دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ، وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو آگے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دراہم کے بدلے دراہم ہوں اور غلہ مؤخر ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2275]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2135، م: 1525
حدیث نمبر: 2276 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَذَبَنِي فَجَرَّنِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، قِيَامُهُ فِيهِنَّ سَوَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے کسی حصے میں نماز پڑھنے لگے، میں نے بھی کھڑے ہو کر وضو کیا اور آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیرہ رکعتیں پڑھیں جن میں قیام یکساں تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2276]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2277 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عُرْوَة، لِابْنِ عَبَّاسٍ حَتَّى مَتَى تُضِلُّ النَّاسَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟! قَالَ: مَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ؟ قَالَ:" تَأْمُرُنَا بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَقَدْ نَهَى أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ عُرْوَةُ: هما كَانَا هُمَا أَتْبَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَ بِهِ مِنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو بہکاتے رہیں گے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ عروہ نے کہا کہ آپ ہمیں اشہر حج میں عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں جبکہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما نے اس کی ممانعت فرمائی ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کیا ہے، عروہ نے کہا کہ وہ دونوں اتباع رسول میں بھی آپ سے بڑھ کر تھے اور علم میں بھی آپ سے آگے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح