حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ، أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الضُّحَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ، قَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" فَأْتِنِي بِهِ" , قَالَ: فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ، قَالَ: فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ، وَأَمَرَ بِلَالًا , فَقَالَ:" نَادِ فِي النَّاسِ، الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چنانچہ ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ”تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”وہ میرے پاس لے آؤ“، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”لوگوں میں اعلان کر دو مبارک پانی آ کر لے جائیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2268]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه