بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2277
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2277
حدیث نمبر: 2277 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عُرْوَة، لِابْنِ عَبَّاسٍ حَتَّى مَتَى تُضِلُّ النَّاسَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟! قَالَ: مَا ذَاكَ يَا عُرَيَّةُ؟ قَالَ:" تَأْمُرُنَا بِالْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ، وَقَدْ نَهَى أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ! فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ عُرْوَةُ: هما كَانَا هُمَا أَتْبَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْلَمَ بِهِ مِنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ اے ابن عباس! آپ کب تک لوگوں کو بہکاتے رہیں گے؟ انہوں نے پوچھا: کیا مطلب؟ عروہ نے کہا کہ آپ ہمیں اشہر حج میں عمرہ کرنے کا حکم دیتے ہیں جبکہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما نے اس کی ممانعت فرمائی ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح کیا ہے، عروہ نے کہا کہ وہ دونوں اتباع رسول میں بھی آپ سے بڑھ کر تھے اور علم میں بھی آپ سے آگے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2277]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2276) باب پر واپس اگلی حدیث (2278) →