بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 71 از 86
حدیث نمبر: 3238 مسند احمد
يَحْيَى ، مَالِكٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبَاهَا شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّحْلِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے، لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1334
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1513، م: 1334
حدیث نمبر: 3239 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " دَعَا أَخَاهُ عُبَيْدَ اللَّهِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ: إِنَّكُمْ أَئِمَّةٌ يُقْتَدَى بِكُمْ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِحِلَابٍ فِي هَذَا الْيَوْمِ، فَشَرِبَ". وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً: أَهْلُ بَيْتٍ يُقْتَدَى بِكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم لوگ ائمہ ہو، لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ انہوں نے اس دن دودھ کا برتن منگوایا اور اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3240 مسند احمد
يَحْيَى ، عِمْرَانَ أَبَا بَكْرٍ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هَذِهِ السَّوْدَاءُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي. قَالَ:" إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ، وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ، دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ أَنْ يُعَافِيَكِ"، قَالَتْ: لَا، بَلْ أَصْبِرُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ أَوْ لَا يَنْكَشِفَ عَنِّي. قَالَ: فَدَعَا لَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: یہ حبشن ہے، ایک مرتبہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا جسم برہنہ ہو جاتا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو صبر کر لو اور اس کے عوض جنت لے لو، اور چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دیتا ہوں کہ وہ تمہیں اس بیماری سے عافیت دے دے، اس نے کہا: نہیں، میں صبر کر لوں گی، بس آپ اتنی دعا کر دیجئے کہ میرا جسم برہنہ نہ ہوا کرے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعا کر دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5652، م: 2576
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5652، م: 2576
حدیث نمبر: 3241 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ يَحْيَى كَانَ شُعْبَةُ يَرْفَعُهُ" يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے غالبا مرفوعا مروی ہے کہ کتا اور ایام والی عورت کے نمازی کے آگے سے گزرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3242 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، الزُّهْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النَّحْلَةِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالصُّرَدِ، وَالْهُدْهُدِ". قَالَ يَحْيَى : وَرَأَيْتُ فِي كِتَابِ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور لٹورا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3242]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 3243 مسند احمد
يَحْيَى ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ، فَتَوَضَّأَ، فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَمِينِي، فَأَدَارَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے یہاں رات کو رک گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور مشکیزہ کھول کر اس سے وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے دائیں ہاتھ سے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا اور میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 763
الحكم: إسناده صحيح، م: 763
حدیث نمبر: 3244 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةُ ، رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا حَسَّانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ، فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، وَسَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا، وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِرَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1243
الحكم: إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3245 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِطَعَامٍ، فَأَكَلَهُ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے اور وضو کے لئے پانی کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 374
الحكم: إسناده صحيح، م: 374
حدیث نمبر: 3246 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَهْدَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ، خَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ السَّمْنَ وَالْأَقِطَ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی خالہ سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرما لیا، لیکن ناپسندیدگی کی بنا پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھانا حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جا سکتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3246]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2575، م: 1947
حدیث نمبر: 3247 مسند احمد
يَحْيَى ، أَجْلَحَ ، يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَجْلَحَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاجِعُهُ الْكَلَامَ، فَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ. فَقَالَ:" جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا! مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تن تنہا چاہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3247]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح بن عبدالله مختلف فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أجلح بن عبدالله مختلف فيه
حدیث نمبر: 3248 مسند احمد
يَحْيَى ، وَإِسْمَاعِيلُ ، عَوْفٌ ، زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَإِسْمَاعِيلُ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: يَحْيَى لَا يَدْرِي عَوْفٌ: عَبْدُ اللَّهِ، أَوْ الْفَضْلُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ، وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَاحِلَتِهِ:" هَاتِ الْقُطْ لِي" فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ، فَوَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ، فَقَالَ:" بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ" مَرَّتَيْنِ، وَقَالَ بِيَدِهِ فَأَشَارَ يَحْيَى أَنَّهُ رَفَعَهَا وَقَالَ:" إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح اپنی سواری پر سے مجھ سے فرمایا: ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3249 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ إِخْوَانِنَا قَبْلَ ذَلِكَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے وہ ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہو گئے، ان کا کیا بنے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة: 143] » اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3249]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 3250 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ أَوَّلُ مَا اتَّخَذَتْ النِّسَاءُ الْمِنْطَقَ مِنْ قِبَلِ أُمِّ إِسْمَاعِيلَ، اتَّخَذَتْ مِنْطَقًا لِتُعَفِّيَ أَثَرَهَا عَلَى سَارَةَ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَلْفَى ذَلِكَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، وَهِيَ تُحِبُّ الْإِنْسَ، فَنَزَلُوا، وَأَرْسَلُوا إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَنَزَلُوا مَعَهُمْ". وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ:" فَهَبَطَتْ مِنَ الصَّفَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْوَادِيَ، رَفَعَتْ طَرَفَ دِرْعِهَا، ثُمَّ سَعَتْ سَعْيَ الْإِنْسَانِ الْمَجْهُودِ، حَتَّى جَاوَزَتْ الْوَادِيَ، ثُمَّ أَتَتْ الْمَرْوَةَ فَقَامَتْ عَلَيْهَا، وَنَظَرَتْ هَلْ تَرَى أَحَدًا، فَلَمْ تَرَ أَحَدًا، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِذَلِكَ سَعْيُ النَّاسِ بَيْنَهُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عورتوں میں کمر بند باندھنے کا رواج سب سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کی طرف سے منتقل ہوا ہے، وہ اپنے اثرات مٹانے کے لئے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کمر بند باندھتی تھیں، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مزید فرمایا کہ ام اسماعیل علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، اگر وہ زمزم کو یوں ہی چھوڑ دیتیں تو وہ ایک جاری چشمہ ہوتا، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ام اسماعیل کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، وہ انسانوں سے محبت کرتی تھیں، چنانچہ قافلے والوں نے وہیں پڑاؤ ڈال لیا اور اپنے دیگر اہل خانہ کو بھی بلا لیا اور وہ ان کے ساتھ رہنے لگے . . . . .۔ پھر راوی نے یہ بھی کہا کہ ام اسماعیل علیہ السلام صفا سے اتریں اور نشیبی علاقے میں پہنچیں تو اپنی قمیص کا دامن اونچا کیا اور تکلیف میں پڑے ہوئے آدمی کی طرح تیزی سے دوڑنے لگیں، اور اس نشیبی حصے کو عبور کر کے مروہ پر پہنچیں اور وہاں کھڑی ہو کر دیکھنے لگیں کہ کوئی انسان نظر آتا ہے یا نہیں؟ لیکن انہیں کوئی نظر نہ آیا، انہوں نے سات مرتبہ اسی طرح چکر لگائے، اور یہی سعی کی ابتداء ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3250]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3362، 3363، 3365
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3362، 3363، 3365
حدیث نمبر: 3251 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، مِقْسَمًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ سورة الأنفال آية 30، قَالَ: تَشَاوَرَتْ قُرَيْشٌ لَيْلَةً بِمَكَّةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصْبَحَ، فَأَثْبِتُوهُ بِالْوَثَاقِ. يُرِيدُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ اقْتُلُوهُ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ أَخْرِجُوهُ. فَأَطْلَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَبَاتَ عَلِيٌّ عَلَى فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَحِقَ بِالْغَارِ، وَبَاتَ الْمُشْرِكُونَ يَحْرُسُونَ عَلِيًّا، يَحْسَبُونَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا ثَارُوا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَوْا عَلِيًّا، رَدَّ اللَّهُ مَكْرَهُمْ، فَقَالُوا: أَيْنَ صَاحِبُكَ هَذَا؟ قَالَ:" لَا أَدْرِي". فَاقْتَصُّوا أَثَرَهُ، فَلَمَّا بَلَغُوا الْجَبَلَ خُلِّطَ عَلَيْهِمْ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ، فَمَرُّوا بِالْغَارِ، فَرَأَوْا عَلَى بَابِهِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ، فَقَالُوا: لَوْ دَخَلَ هَاهُنَا، لَمْ يَكُنْ نَسْجُ الْعَنْكَبُوتِ عَلَى بَابِهِ، فَمَكَثَ فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت قرآنی: « ﴿وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [الأنفال: 30] » اور جب وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تمہارے خلاف خفیہ تدبیریں کر رہے تھے، کی تفسیر میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت قریش نے مکہ مکرمہ میں باہم مشورہ کیا، بعض نے کہا کہ صبح ہوتے ہی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیڑیوں میں جکڑ دو، بعض نے کہا کہ قتل کردو، اور بعض نے انہیں نکال دینے کا مشورہ دیا، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مشرکین کی اس مشاورت کی اطلاع دے دی۔ چنانچہ اس رات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے نکل کر نماز میں چلے گئے، مشرکین ساری رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمجھتے ہوئے پہرہ داری کرتے رہے اور صبح ہوتے ہی انہوں نے ہلہ بول دیا، لیکن دیکھا تو وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، اس طرح اللہ نے ان کے مکر کو ان پر لوٹا دیا، وہ کہنے لگے کہ تمہارے ساتھی کہاں ہیں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نہیں پتہ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نشانات قدم تلاش کرتے ہوئے نکلے، جب وہ اس پہاڑ پر پہنچے تو انہیں التباس ہو گیا، وہ پہاڑ پر بھی چڑھے اور اسی غار کے پاس سے بھی گزرے (جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پناہ گزین تھے)، لیکن انہیں غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا دکھائی دیا، جسے دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اگر وہ یہاں ہوتے تو اس غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس غار میں تین دن ٹھہرے رہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3251]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف، عثمان الجزري ضعيف
حدیث نمبر: 3252 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى نَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ، أَصَابَ ذَنْبًا، ثُمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، ان سے ایک معمولی لغزش ہوئی تھی، پھر ان کے پروردگار نے انہیں چن لیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3252]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3413
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3413
حدیث نمبر: 3253 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ" فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا: سوائے اذخر کے کہ وہ حلال ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1349 ، م: 1353
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1349 ، م: 1353
حدیث نمبر: 3254 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ، قَالَ: كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ، وَيَقُولُ:" مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ، أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ، فَلَيْسَ مِنَّا". قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْجَانَّ مَسِيخُ الْجِنِّ، كَمَا مُسِخَتْ الْقِرَدَةُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص خوف کی وجہ سے یا ان کی کسی تاثیر کے اندیشے سے انہیں چھوڑ دیتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور فرماتے تھے کہ سانپ جنات کی بدلی ہوئی شکل ہوتے ہیں، جیسے بنی اسرائیل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3254]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3255 مسند احمد
عبد الله ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حدثنا عبد الله ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سانپ جنات کی مسخ شدہ شکل ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3255]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا
الحكم: صحيح موقوفا
حدیث نمبر: 3256 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ، قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ. فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِمَّا لَا، فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ، هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ، وَيَقُولُ: مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا: جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا؟ بعد میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ہنستے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3256]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1328
الحكم: إسناده صحيح، م: 1328
حدیث نمبر: 3257 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبُو حَاضِرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ؟ فَقَالَ: نَهَى اللهُ عز وجل عنه ورَسُولُه. فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ. فَقَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوحاضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مٹکے کے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ گیا اور ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ذکر کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا: ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3257]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح