عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ:" لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُعْضَدُ عِضَاهُهَا، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ" فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ حَلَالٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں، یہاں کے شکار کو مت بھگایا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے، سوائے اس شخص کے جو اس کا اشتہار دے کر مالک تک اسے پہنچا دے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اذخر نامی گھاس کو مستثنی فرما دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مستثنی کرتے ہوئے فرمایا: ”سوائے اذخر کے کہ وہ حلال ہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3253]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1349 ، م: 1353
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1349 ، م: 1353