يَحْيَى ، عِمْرَانَ أَبَا بَكْرٍ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبَا بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَا أُرِيكَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: هَذِهِ السَّوْدَاءُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُصْرَعُ وَأَتَكَشَّفُ، فَادْعُ اللَّهَ لِي. قَالَ:" إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ، وَلَكِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ شِئْتِ، دَعَوْتُ اللَّهَ لَكِ أَنْ يُعَافِيَكِ"، قَالَتْ: لَا، بَلْ أَصْبِرُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَكَشَّفَ أَوْ لَا يَنْكَشِفَ عَنِّي. قَالَ: فَدَعَا لَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: یہ حبشن ہے، ایک مرتبہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے جس سے میرا جسم برہنہ ہو جاتا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو صبر کر لو اور اس کے عوض جنت لے لو، اور چاہو تو میں اللہ سے دعا کر دیتا ہوں کہ وہ تمہیں اس بیماری سے عافیت دے دے، اس نے کہا: نہیں، میں صبر کر لوں گی، بس آپ اتنی دعا کر دیجئے کہ میرا جسم برہنہ نہ ہوا کرے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعا کر دی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5652، م: 2576
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5652، م: 2576