يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ مِائَةَ بَدَنَةٍ، نَحَرَ بِيَدِهِ مِنْهَا سِتِّينَ، وَأَمَرَ بِبَقِيَّتِهَا، فَنُحِرَتْ، وَأَخَذَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بَضْعَةً فَجُمِعَتْ فِي قِدْرٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، وَحَسَا مِنْ مَرَقِهَا، وَنَحَرَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ، فِيهَا جَمَلُ أَبِي جَهْلٍ، فَلَمَّا صُدَّتْ عَنِ الْبَيْتِ، حَنَّتْ كَمَا تَحِنُّ إِلَى أَوْلَادِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی کی، جن میں سے ساٹھ کو اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اور باقی اونٹ دوسروں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کو ذبح کرنے کا حکم دیا اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ٹکڑا لیا، ان سب کو ایک ہانڈی میں جمع کر کے پکایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے تناول بھی فرمایا اور اس کا شوربہ بھی پیا، اور صلح حدیبیہ کے موقع پر ستر اونٹ قربان کئے، جن میں ابوجہل کا اونٹ بھی شامل تھا، جب انہیں بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا گیا تو وہ اونٹ ایسے رونے لگے جیسے اپنے بچوں کی خاطر روتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2880]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى، فإنه سيئ الحفظ
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن عبدالرحمن بن أبى ليلى، فإنه سيئ الحفظ