يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، أَبِي عُلْوَانَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي عُلْوَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" فُرِضَ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُونَ صَلَاةً، فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَجَعَلَهَا خَمْسًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پچاس نمازیں ابتدائی طور پر فرض ہوئی تھیں، پھر انہوں نے پروردگار سے دعا کی تو اس نے انہیں پانچ کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2889]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ