بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1710
صفحہ 58 از 86
حدیث نمبر: 2978 مسند احمد
رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، ابْنِ وَعْلَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَالْخَمْرُ حَلَالٌ، فَأَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا يَقْتَادُهَا عَلَى بَعِيرٍ، حَتَّى وَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا مَعَكَ؟" قَالَ: رَاوِيَةُ خَمْرٍ أَهْدَيْتُهَا لَكَ. قَالَ:" هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَهَا" قَالَ: لَا، قَالَ، فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا؟" فَالْتَفَتَ الرَّجُلُ إِلَى قَائِدِ الْبَعِيرِ، وَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ، فَقَالَ:" مَاذَا قُلْتَ لَهُ؟" قَالَ: أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا. قَالَ" إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا"، قَالَ: فَأَمَرَ بِعَزَالِي الْمَزَادَةِ فَفُتِحَتْ، فَخَرَجَتْ فِي التُّرَابِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي الْبَطْحَاءِ مَا فِيهَا شَيْءٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: یہ کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ شراب کا مشکیزہ آپ کے لئے ہدیہ لایا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے شراب کو حرام کردیا ہے، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خرید و فروخت بھی حرام کر دی ہے۔ چنانچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحا میں بہا دیا گیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں بچا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2978]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 2979 مسند احمد
هَاشِمٌ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، عَامِرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ، وَكَانَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ، وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ، وَكَانَ يَحْجُمُهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، وَكَانَ يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ وَنِصْفٌ، فَشَفَعَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَجُعِلَ مُدًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی اجرت دی ہے، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کبھی نہ دیتے، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لی جاتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی، چنانچہ انہوں نے اسے ایک مد کر دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2979]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف جابر الجعفي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 2980 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالت احرام میں (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1910
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1837، م: 1910
حدیث نمبر: 2981 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، ابْنِ عَطَاءٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2981]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن عطاء
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن عطاء
حدیث نمبر: 2982 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے، اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1035، م: 900
حدیث نمبر: 2983 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، شُعْبَةُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُمِرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ شُعْبَةُ وَحَدَّثَنِيهِ مَرَّةً أُخْرَى، قَالَ" أُمِرْتُ بِالسُّجُودِ، وَأَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
الحكم: إسناده صحيح، خ: 809، م: 490
حدیث نمبر: 2984 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، أَبِي صَالِحٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ، وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2984]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
الحكم: حسن لغيره، دون ذكر السرج، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى صالح
حدیث نمبر: 2985 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي جَمْرَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، (آٹھ تہجد، تین وتر اور دو فجر کی سنتیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1138، م: 764
حدیث نمبر: 2986 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94" إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا . . . . .﴾ [النساء: 94] » جو شخص تمہیں سلام کرے، اس سے یہ مت کہا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو . . . . .۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2986]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ،، خ: 4591، م: 3025، رواية سماك عن عكرمة مضطرية، لكن سماكة قد توبع
الحكم: صحيح لغيره ،، خ: 4591، م: 3025، رواية سماك عن عكرمة مضطرية، لكن سماكة قد توبع
حدیث نمبر: 2987 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
رقم الحديث: 2868
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110، قَالَ:" أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ « ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ . . . . .﴾ [آل عمران: 110] » تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی . . . . . والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2987]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2988 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ ، أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الضُّحَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
رقم الحديث: 2869
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ، وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ، وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ، وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ، وَسَائِرَ الْخَلَائِقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ سورة الأنعام آية 91" الْآيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس - جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما تھے - ایک یہودی کا گزر ہوا، وہ کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھا لے گا اور اس نے شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ [الزمر: 67] » ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدردانی کرنے کا حق تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2988]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 2989 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَطَاءٍ ، أَبِي الضُّحَى ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ. قَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَأْتِنِي بِهِ"، فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ عَلَى فَمِ الْإِنَاءِ، وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ، قَالَ: فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ، وَأَمَرَ بِلَالًا، فَقَالَ:" نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چنانچہ ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: وہ میرے پاس لے آؤ، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو مبارک پانی آ کر لے جائیں۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2989]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 2990 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَفَاةُ، قَالَ:" هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ" وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ، وَعِنْدَكُمْ الْقُرْآنُ، حَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ. قَالَ: فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ، فَاخْتَصَمُوا، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: يَكْتُبُ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ، وَغُمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قُومُوا عَنِّي". فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ، مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ، مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے۔ اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی اور کتاب اللہ ہمارے لئے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کر دو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں، اور بعض کی رائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ہائے افسوس! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 114، م: 1637
الحكم: إسناده صحيح، خ: 114، م: 1637
حدیث نمبر: 2991 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ بِمَكَّةَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَبَعْدَ مَا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صُرِفَ إِلَى الْكَعْبَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب تک مکہ مکرمہ میں رہے اس وقت تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، اور خانہ کعبہ تو آپ کے سامنے ہوتا ہی تھا، اور ہجرت کے بعد بھی سولہ مہینے تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2992 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَسَنٌ ، أَبِيهِ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
رقم الحديث: 2873
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ عُمَرُ، فَقَالَ" السَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَيَدْخُلُ عُمَرُ؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تھے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور سلام کر کے عرض کیا کہ کیا عمر اندر آسکتا ہے؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2993 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ، فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6732، م: 1615
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6732، م: 1615
حدیث نمبر: 2994 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَشَرِبَ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ، وَافْتَتَحَ مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کر دیا، اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور افطار بھی کیا ہے، لہذا مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضا کر لے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4279، م: 1113
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4279، م: 1113
حدیث نمبر: 2995 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، خُصَيْفٍ ، مِقْسَمٍ ، شَرِيكٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الرَّجُلِ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ:" عَلَيْهِ نِصْفُ دِينَارٍ". قَالَ: وَقَالَ شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2995]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا
الحكم: صحيح موقوفا
حدیث نمبر: 2996 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَجِّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ، لَكَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہر سال حج فرض ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر مسلمان - جو صاحب استطاعت ہو - پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2996]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ ، ورواية سماك بن حرب عن عكرمة فيها اضطراب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ ، ورواية سماك بن حرب عن عكرمة فيها اضطراب
حدیث نمبر: 2997 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَقَالُوا: كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا حَسَنٍ؟ فَقَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: أَلَا تَرَى؟! إِنِّي لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ، فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنُكَلِّمْهُ، فَإِنْ كَانَ الْأَمْرُ فِينَا بَيَّنَهُ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ، وَأَوْصَى بِنَا. فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنْ قَالَ: الْأَمْرُ فِي غَيْرِنَا، فَلَمْ يُعْطِنَاهُ النَّاسُ أَبَدًا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا: ابوالحسن! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الحمدللہ ٹھیک ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا تم دیکھ نہیں رہے؟ واللہ! اس بیماری سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (جانبر نہ ہو سکیں گے اور) وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں، اس لئے آؤ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہو جائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بات کر لیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کی درخواست کی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4447