يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرَّ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، مَعَهُ غَنَمٌ لَهُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْكُمْ، فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَخَذُوا غَنَمَهُ، فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة النساء آية 94" إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچا لے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کر دیا، اور اس کی بکریاں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا . . . . .﴾ [النساء: 94] » ”جو شخص تمہیں سلام کرے، اس سے یہ مت کہا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے، تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو . . . . .۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2986]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ،، خ: 4591، م: 3025، رواية سماك عن عكرمة مضطرية، لكن سماكة قد توبع
الحكم: صحيح لغيره ،، خ: 4591، م: 3025، رواية سماك عن عكرمة مضطرية، لكن سماكة قد توبع