بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3261
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3261
حدیث نمبر: 3261 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَالَةَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، تُوُفِّيَتْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى سَرِفَ، قَالَ:" فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ لَا تُزَعْزِعُوا بِهَا، وَلَا تُزَلْزِلُوا، ارْفُقُوا، فَإِنَّهُ كَانَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ تِسْعُ نِسْوَةٍ، فَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ، وَلَا يَقْسِمُ لِلتَّاسِعَةِ". يُرِيدُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ. قَالَ عَطَاءٌ كَانَتْ آخِرَهُنَّ مَوْتًا، مَاتَتْ بِالْمَدِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں، میں ان کے ساتھ مقام سرف گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمانے لگے: یہ ام المومنین ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو چارپائی کو تیزی سے حرکت نہ دینا اور نہ ہی اسے ہلانا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو ازواج مطہرات تھیں، جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آٹھ کو باری دیا کرتے (ان میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں) اور ایک زوجہ کو (ان کی اجازت اور مرضی کے مطابق) باری نہیں ملتی تھی۔ عطاء کہتے ہیں کہ جس زوجہ محترمہ کی باری مقرر نہیں تھی، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں، (لیکن جمہور محققین کی رائے کے مطابق وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ واللہ اعلم)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1665
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5067، م: 1665
← پچھلی حدیث (3260) باب پر واپس اگلی حدیث (3262) →