أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَوَقَعَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَاذِبٌ، إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَوْ شَهَادَتُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، لہذا اسے وہ حق ادا کرنے کا حکم دیجئے اور اس کی قسم کا کفارہ لا الہ الا اللہ کی معرفت اور شہادت ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2695]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لاختلاط عطاء بن السائب ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: إسناده ضعيف، لاختلاط عطاء بن السائب ، وشريك سيئ الحفظ، لكنه توبع