عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ، قَالَ:" لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ , لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر کی طرف منتقل ہو گئے تو کھجور کا وہ تنا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا: ”اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2236]
الحكم: إسناده صحيح