حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ قَدْ اشْتَكَى فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ، وَمَعَهُ مِحْجَنٌ , كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ، أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی تکلیف کی بنا پر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طواف سے فارغ ہو کر اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور دوگانہ طواف کیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2772]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف يزيد بن عطاء ويزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، لضعف يزيد بن عطاء ويزيد بن أبى زياد