يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا:" مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا الْعَامَ؟" , قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانَ لَنَا نَاضِحَانِ فَرَكِبَ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا نَاضِحًا وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي فِيهِ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کی ایک عورت سے - جس کا نام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا تھا لیکن راوی بھول گئے - فرمایا کہ ”اس سال ہمارے ساتھ حج پر جانے سے آپ کو کس چیز نے روکا؟“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے پاس پانی لانے والے دو اونٹ تھے، ایک پر میرا شوہر اور بیٹا سوار ہو کر حج کے لئے چلے گئے تھے اور ایک اونٹ ہمارے لئے چھوڑ گئے تھے تاکہ ہم اس پر پانی بھر سکیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب رمضان کا مہینہ آئے گا تو آپ اس میں عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1782، م: 1256 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1782، م: 1256 .