يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، أَبَا الْحَكَمِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، وَالدُّبَّاءِ، وقَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحَرِّمَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيُحَرِّمْ النَّبِيذَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالحکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مٹکے کی نبیذ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ اور کدو کی تونبی سے منع فرمایا ہے، اس لئے جو شخص اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ نبیذ کو حرام سمجھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.